خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 29
خطبات مسرور جلد پنجم 4 29 29 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء فرموده مورخہ 26 جنوری 2007 ( 26 صلح 1386 ہجری تشسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج کے خطبہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا بیان ہی ہوگا۔لیکن آج اس ضمن میں میں حدیث کے حوالے سے بات کروں گا۔اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے حوالے سے بے شمار احادیث ہیں جن میں سے چند ایک میں نے چنی ہیں ، ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بارے میں جو نصائح فرمائی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اس صفت کی مختلف زاویوں سے جو وضاحت فرمائی ہے اس کا ذکر ہے تا کہ ہمیں اس کا صحیح فہم و ادراک حاصل ہو۔یہ احادیث جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلووں کو اپنی ذات میں جذب کرتے ہوئے اس کا عبد منیب بنانے والی اور اس کے آگے جھکائے رکھنے والی ہونی چاہئیں، جس سے ہمارے جسم کا رواں رواں خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا شکر گزار بن جائے ، وہاں اس رحمۃ للعالمین پر درود بھیجنے کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے۔جس نے ہم عاجز گناہگار بندوں کا خدائے رحمن سے تعلق جوڑنے کے لئے کس طرح مختلف طریق پر نصائح فرماتے ہوئے وہ فہم اور ادراک عطا فرمایا اور اپنا اسوہ قائم فرما کر ہمیں ان راہوں پر چلنے کی نصیحت فرمائی۔احادیث پیش کرنے سے پہلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے اس صفت کا پر تو ہونے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رحمانیت کا مظہر نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ محمد کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا۔اور رحمن کے معنے ہیں بلائزڈ۔( بلا مزد کا مطلب ہے بغیر اجر کے ) ” بن مانگے بلا تفریق ، مومن و کافر کو دینے والا اور یہ صاف بات ہے کہ جو بن مانگے دے گا، اس کی تعریف ضرور کی جائے گی۔پس محمد ( صلی اللہ) میں رحمانیت کی بجلی تھی، (ملفوظات جلد اول صفحه 395 جدید ایڈیشن مطبوعه (ربوه یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فہم وادراک اور کلام کی خوبصورتی اور آپ کا اپنے آقا و مطاع حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے صحیح مقام کا فہم جس تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا۔