خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 28
28 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑے اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرزتے ہوئے گر پڑیں کہ انہوں نے رحمن کے لئے بیٹے کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ رحمن کے شایان شان نہیں کہ وہ کوئی بیٹا اپنائے۔یقینا آسمانوں اور زمین میں کوئی نہیں مگر وہ رحمن کے حضور ایک بندے کے طور پر آنے والا ہے۔ہر جو دنیا میں آیا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، بندہ ہے۔آجکل یہ شرک انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور یہی زمانہ تھا جب اس شرک کے ظاہر ہونے پر خدا تعالیٰ کی غیرت نے جوش میں آکر اس ظالمانہ نظریہ کے خلاف مسیح محمدی کو کھڑا کرنا تھا۔سو وہ کھڑا ہوا اور اس نظریہ کو پاش پاش کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مبعوث ہونا بھی رحمن خدا کا ہم پر احسان ہے جس کے لئے ہمیں شکر گزار ہوتے ہوئے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے ، اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ جو آیت ہے کہ تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرُنَ مِنْهُ دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ قیامت کبری کے قریب عیسائیت کا زمین پر بہت غلبہ ہو جائے گا۔جیسا کہ آجکل ظاہر ہورہا ہے اور اس آیت کریمہ کا منشاء یہ ہے کہ اگر اس فتنہ کے وقت خدا تعالیٰ اپنے میسج کو بھیج کر اصلاح اس فتنہ کی نہ کرے تو فی الفور قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے۔مگر چونکہ باوجود اس قدر عیسائیت کے غلو کے اور اس قدر تکذیب کے۔قیامت نہیں آئی تو یہ دلیل اس بات پر ہے کہ خدا نے اپنے بندوں پر رحم کر کے اپنے مسیح کو بھیج دیا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا کا وعدہ جھوٹا نکلے۔“ (تحفہ گولڑویه روحانی خزائن جلد 17 صفحه (287 پس اب غلامان مصیح الزمان کا کام ہے کہ اس پیغام کو پہنچانے کے لئے پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں اور خدا کے وعدہ کے مطابق اس کے اجر کے وارث بنیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا:۔گزشتہ جمعہ میں نے مسجد برلن کا ذکر کیا تھا کہ لجنہ اماءاللہ جرمنی نے یہ کام اپنے ذمہ لیا ہے۔اس پہ جو جرمنی سے باہر کی عورتیں ہیں ان کا بھی خیال ہے کہ اُس زمانے میں کیونکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کام قادیان اور ہندوستان کے ذمہ کیا تھا جن میں سے بیشتر کی اولادیں پاکستان میں اور باہر کے دوسرے ممالک میں ہیں ، اس لئے ان کو ثواب پہنچانے اور ہمیں بھی ثواب حاصل کرنے کے لئے اس کی اجازت دی جائے کہ ہم بھی اس میں حصہ لے سکیں۔تو بہر حال عام تحریک تو میں نہیں کرتا لیکن یہ اجازت ہے کہ اگر کوئی احمدی عورت یا بچی اس مد میں اپنی خوشی سے چندہ دینا چاہیں تو بے شک دے دیں، کوئی روک نہیں ہے۔اور مجھے امید ہے کہ لجنہ اماءاللہ جرمنی بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کریں گی۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ خیریت سے اس مسجد کی تعمیر مکمل کروادے کیونکہ مخالفت ابھی بھی زوروں پر ہے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 9 تا 15 فروری 2007 ء ص 5 تا 7 )