خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 378
378 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور تقویٰ پر قدم مارنا ہی ایک مومن بندے کی زندگی میں انقلاب لاتے ہوئے ، ایک مومن بندے کو اس دنیا کی نعماء سے بھی بہرہ ور کرے گا اور آخرت میں بھی۔پس ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مہیا کردہ انتظام سے فائدہ اٹھائیں۔اس کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق یہ دن گزارتے ہوئے تقویٰ میں ترقی کریں۔آنحضرت ﷺ سے پہلے جو نبی آئے، پہلوں کی جو تعلیم تھی وہ تو عارضی زمانے کے لئے تھی ختم ہوگئی۔وہ تعلیم تو عارضی تقوئی عطا کرنے کے لئے تھی اور تعلیم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اس میں وہ تازگی نہیں رہی ، تقویٰ نہیں رہا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اسلام کی تعلیم تو ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔قرآن کریم کے احکامات تو ہمیشہ کے لئے قائم ہیں۔دوسرے مذاہب کے روزوں میں تو نفسانی خواہشات داخل ہو گئی ہیں۔ہماری تو تعلیم بھی زندہ ہے اور احکامات بھی اصل حالت میں قائم ہیں۔پس ہمیں اپنے تقویٰ کے معیاروں کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیشہ جد و جہد کرتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔ہمیں تقویٰ کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو بلند سے بلند مقام حاصل کرنے کے لئے راستے دکھائے ہوئے ہیں، انہیں حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ سیڑھیاں بھی مہیا فرمائی ہوئی ہیں جن پر ہم نے چڑھنا ہے جس کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنی استعدادوں کے مطابق اُن بلندیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ایک کے بعد دوسرا قدم بڑھاتے ہوئے اوپر چلتے چلے جانا چاہئے۔اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر امت بنا کر عبادتوں کی بلندیوں کے راستے بھی دکھا دیئے ہیں اور اعمالِ صالحہ کی بلندیوں کے راستے بھی دکھا دیئے ہیں۔پس ہم خیر امت تبھی کہلا سکیں گے جب یہ معیار حاصل کرنے والے ہوں گے۔ایک کے بعد دوسرا معیار حاصل کرنے کی سعی کرتے چلے جائیں گے، کوشش کرتے چلے جائیں گے۔پس اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کئے گئے یہ اعمال ہی ہیں جو تقویٰ کہلاتے ہیں ، جس کے حصول کے لئے رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں تقویٰ کے حصول کے لئے مجاہدہ کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدرتز کیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کے لئے تسلی اور سیری کا باعث ہے۔اور جو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے ، انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے“۔(الحكم جلد11نمبر 2 مورخه 17/جنوری 1907ء صفحه 9)