خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 377
خطبات مسرور جلد پنجم 377 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء انسان مستقل مزاجی سے اپنے اوپر ان بُرائیوں کو چھوڑنے کا عمل جاری رکھے گا تبھی وہ آخری بات یہ بتائی گئی ہے کہ جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔کیا صرف 30 دن کی جو نیکیاں ہیں ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے وہ مقام عطا فرمائے گا جو اس کی رضا کا مقام ہے اور بندہ خوش ہو گا ؟ نہیں، بلکہ اس لئے خوش ہو گا کہ ایک رمضان کے روزوں نے میرے اندر بُرائیاں ختم کیں۔میری نفسانی اور شہوانی حالتوں کو دور کرنے کی کوشش کی وجہ سے، میری استغفار کی وجہ سے ، میری اس کوشش کی وجہ سے کہ میں اللہ کی خاطر بُرائیوں کو ترک کرنے والا بنوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بُرائیوں سے دور کیا۔اور زندگی کا ہر رمضان جو اس کوشش کی نیت سے آئے گا اور سال کا ہر مہینہ جو اس رمضان میں حاصل کردہ نیکیوں کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے گزرے گا، سال کا ہر دن ان تہیں دنوں کی ٹریننگ کی وجہ سے بُرائیوں سے دور کرتے ہوئے گزرے گا تو آخر کو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنائے گا اور وہ مقام ہوگا جہاں بندہ خوش ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے میری بُرائیوں کو رمضان کی برکتوں کی وجہ سے مجھ سے دُور کیا اور مجھے رمضان کی وجہ سے میری نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کا موقع عطا فر مایا۔میں نے خالص ہو کر اس کی خاطر روزے رکھے اور ان روزوں کے مجاہدے سے اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش کی ، اپنی عبادتوں کے معیار بلند کئے اور آج میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بن رہا ہوں۔پس رمضان آیا ہے تو اپنی عبادتوں کے معیار بھی ہمیں بلند کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتے ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ایک طالب علم کی طرح جو امتحان کی تیاری کے لئے محنت کرتے ہوئے راتوں کو دن کر دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہم بھی اپنی راتوں کو ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی خاطر گزارنے کی کوشش کریں گے تو وہ رحیم و کریم خدا ، وہ مستجاب الدعوات خدا اپنے وعدے کے مطابق ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر ڈالے گا۔ہمیں ان راستوں کی طرف لائے گا جو اس کی رضا کے راستے ہیں۔ہمیں ان انعامات سے نوازے گا جن سے وہ اپنے خاص بندوں کو نوازتا۔ہے۔ہمارے تقویٰ کے معیاروں کو وہاں تک لے جائے گا جہاں اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ نے روزہ کو ڈھال بنایا ہے تو اس ڈھال کا استعمال بھی آنا چاہئے۔اگر ڈھال صحیح طرح اپنے سامنے نہ رکھی جائے ، اگر اُس کو مضبوطی سے نہ پکڑا جائے تو حملہ آور کا ایک ہی وار اس کو ہوا میں اڑا دیتا ہے اور ڈھال، ڈھال کا کام نہیں دے سکتی۔پس شیطان جو سب حملہ آوروں سے زیادہ خطرناک حملہ آور ہے اس کے وار سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ترقی کرنے ، اپنی راتوں کو زندہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مضبوط پکڑنے سے ہی روزے کی اس ڈھال سے ایک مومن صحیح فائدہ اٹھا سکتا ہے اور یہ ٹرینگ کے دن اللہ تعالیٰ نے ہمیں میسر فرمائے۔جہنم کی آگ سے بچنے کے لئے روزہ تبھی قلعہ کا کردارادا کرے گا جب قلعہ کے ہر دروازے پر اپنی عبادتوں اور اعمال کے پہرے بٹھائے جائیں گے۔پھر یہ پہرے اور مضبوط قلعہ کی دیوار میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھڑی کی ہیں، جہنم کی آگ سے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہر ایک مومن بندے کو بچائیں گی۔