خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد پنجم 376 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء دوں گا اور روزے ڈھال ہیں۔جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے اور اگر کوئی اس کو گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو اسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ میں تو روزے دار ہوں۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، ، ، روزے دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طیب ہے۔روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہوگا۔(بخاری کتاب الصوم۔باب هل يقول اني صائم اذا شتم حدیث نمبر (1904 ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ عز وجل کی خاطر رکھا جاتا ہے اور روزہ رکھنے والے کا اجر صرف اللہ عز وجل کو ہی معلوم ہے۔اللہ تعالیٰ نیکیوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ جو نیکیاں کرنے والے ہیں اور جو اعمالِ صالحہ بجالانے والے ہیں ان کو میں سات سو گنا تک اجر دیتا ہوں اور اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہوں۔تو روزوں کا اجر اس بیان کردہ حد سے بڑھ جانے والا ہے۔کتنا بڑھاتا ہے یہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو پتہ ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات، اُس کی صفات لا محدود ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی جزا بھی لا محدود ہے۔پس یہ انسانی تصور سے ہی باہر ہے کہ کتنا اجر ہو گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ الہ تعالی کوہی پتہ ہے۔لیکن بعض حدود اللہ تعالیٰ نے روزہ کے ساتھ لگا دی ہیں کہ اس لامحدود اجر پانے کے لئے تمہیں اپنی حدوں میں بھی قائم رہنا ہوگا ، ان احکامات کی تعمیل کرنی ہوگی۔صرف فاقہ نہیں کرنا بلکہ کچھ مجاہدے کرنے ہوں گے ، بُرائیوں کو چھوڑنا ہو گا جیسا کہ حدیث میں آیا۔ہر قسم کے نفسانی اور شہوانی جذبات سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی بلکہ جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض جائز باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑنا ہو گا۔جب یہ حالت ہو گی تو وہ روزہ خدا تعالیٰ کی خاطر ہوگا۔یہ بُرائیاں چھوڑنا ہی ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہوگا۔لیکن یہ وقتی چھوڑ نا نہیں ہے، ان بُرائیوں سے وقتی طور پر کنارہ کشی اختیار نہیں کرنی بلکہ مستقلاً یہ عادت ڈالنی ہوگی۔جب یہ حالت ہوگی تو وہ روزہ پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جس کو انسان کی پاتال تک کی خبر ہے وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ بندے کے کسی بھی فعل کے پیچھے اس کی کیا نیت ہے۔وہ ذات جو حاضر اور غائب کا علم رکھتی ہے اگر اس کی صفات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر روزہ دار روزہ رکھتا ہے اور مجاہدہ کرتا ہے تو پھر وہ روزہ اس کے لئے جزا بن جائے گا۔جو روزہ اس نیت سے رکھا جائے گا کہ آج میں ان نفسانی اور شہوانی باتوں سے دور جارہا ہوں، ان کو ترک کر رہا ہوں تو صرف رمضان کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ،تب ہی وہ روزہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوگا ، خدا کی خاطر رکھا جانے والا کہلا سکے گا۔کسی گالی کے جواب میں جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں روزہ دار ہوں ، تمہاری لغویات کا جواب نہیں دے سکتا تو یہ مطلب نہیں کہ روزہ کھول لوں پھر جواب دے دوں گا، پھر تمہیں دیکھ لوں گا کہ تم کتنے پانی میں ہو۔پھر میں تمہیں دیکھ لوں گا کہ تم میرے سے زیادہ طاقتور ہو یا نہیں ، ابھی فی الحال میں جھگڑا نہیں کر سکتا ہمیں روزہ دار ہوں۔نہیں بلکہ روزہ ایک ٹریننگ کیمپ Training Camp) ہے جس میں ان بُرائیوں کے چھوڑنے کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے اور یہی ایک مجاہدہ ہے جو روزہ دار نے کرنا ہے۔خدا کی طرف بڑھنے کے صحیح قدم اسی وقت اٹھا سکیں گے جب ایک