خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 375

خطبات مسرور جلد پنجم 375 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء بہت بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کو بنایا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے انعاموں کے حصول کے لئے جو حقیقی کوشش کرتا ہے وہ گنا ہوں سے پاک کر دیا جاتا ہے۔اسے نیکیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بن جاتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حدیث میں ہے ، حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کا فضل چاہتے ہوئے روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے اور آگ کے مابین ستر خریف کا فاصلہ پیدا کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری۔كتاب الجهاد والسير باب فضل الصوم في سبيل الله حدیث نمبر (2840 یعنی موسم سرما اور گرما کے درمیان جتنا فرق ہے ، اس سے ستر گنا زیادہ فرق کر دیتا ہے۔یہ ایک مثال ہے کہ اس سے آگ اتنی دور کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کا فضل چاہتے ہوئے روزہ رکھنا ضروری ہے جیسا کہ اس نے حکم دیا۔کسی قسم کا دنیاوی مقصد نہ ہو۔خالص اُس کی رضا کا حصول مقصد ہو تو اللہ تعالیٰ مجاہدہ کرنے والے کو نہ صرف آگ سے بچاتا ہے بلکہ اپنی رضا کی جنتوں میں بھی داخل فرماتا ہے۔اس کو دین بھی ملتا ہے اور دنیا بھی ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: " خدا تعالیٰ کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی نا کام نہیں رہتا۔اس کا سچا وعدہ ہے اَلَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: (70) خدائے تعالیٰ کی راہوں کی تلاش میں جو جو یا ہوا جس نے کوشش کی وہ آخر منزل مقصود پر پہنچا۔دنیوی امتحانوں کے لئے تیاریاں کرنے والے، راتوں کو دن بنا دینے والے طالب علموں کی محنت اور حالت کو ہم دیکھ کر رحم کھا سکتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ جس کا رحم اور فضل بے حد اور بے انت ہے اپنی طرف آنے والے کو ضائع کر دے گا ؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 161-162 ) | پس اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں ہمیں موقع دیا ہے، اس مہینے میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے داخل کیا ہے جس میں روزہ رکھنے والوں کے لئے ، ان روزہ رکھنے والوں کے لئے جو خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے روزہ رکھتے ہیں، آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق روزے کی جزا اللہ تعالیٰ نے خود اپنے پر لے لی ہے۔ایک اور جگہ حدیث میں آیا ہے کہ روزہ ڈھال بن جاتا ہے۔بندے اور آگ کے درمیان روزہ ایک ڈھال بن جاتا ہے۔روزہ اللہ کے بندے اور آگ کے درمیان ایک مضبوط قلعہ اور حصار بن جاتا ہے جس کی دیواروں سے پار ہو کر آگ کبھی اللہ تعالیٰ کے بندے کو جلا نہیں سکتی۔یہ ایک حدیث قدسی ہے۔یعنی آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے، اس حدیث کی تفصیل ایک اور جگہ بخاری میں اس طرح آئی ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ابنِ آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔پس روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور میں ہی اس کی جزا