خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 368
368 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم پروگرام ہیں ان میں براہ راست جماعتی انتظامیہ کو دخل دینے کا حق نہیں ہے، یہ بھی واضح ہونا چاہئے۔خدام الاحمدیہ کے کام میں مقامی صدران یا امیر وغیرہ کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتے۔نہ لجنہ کے کام میں نہ انصار اللہ کے کام میں، باوجود اس کے کہ ان کا نظام بالا ہے۔اگر امراء خلاف تعلیم سلسلہ اور خلاف روایت ذیلی تنظیموں سے کوئی کام ہوتا ہوا دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ ذیلی تنظیم کے صدر کو بلا کر سمجھائیں، اگر مقامی طور پر ہو رہا ہے تو امیر کو اطلاع دی جائے پر اور قائد کو سمجھایا جائے اور پھر فوری طور پر خلیفہ وقت کو اطلاع دینی ضروری ہے۔کیونکہ جماعتی روایات کا تقدس بہر حال قائم کرنا ضروری ہے۔لیکن یہ فرق یاد رکھنا چاہئے کہ پروگراموں میں براہ راست دخل اندازی نہیں کی جاسکتی۔بعض اور جگہوں سے بھی یہ سوال اٹھتے ہیں اس لئے میں ان کو مختصر بیان کر رہا ہوں۔لجنہ کے اجلاسوں کے بارے میں بھی واضح کر دوں کہ بعض لجنہ کی تنظیموں سے یہ سوال اٹھتے رہتے ہیں کہ مردوں کے جو ماہانہ اجلا سات ہوتے ہیں اس میں لجنہ کو بھی لازماً شامل ہونے کے لئے کہا جاتا ہے۔اس بارہ میں واضح ہو کہ لجنہ کے کیونکہ اپنے ماہانہ اجلاس ہوتے ہیں اس لئے جماعتی ماہانہ اجلاسوں میں لجنہ کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے، نہ ان کا شامل ہونا ضروری ہے۔ہاں جو بڑے جلسے ہیں، جیسے سیرت النبی کا جلسہ ہے یوم مسیح موعود ، یوم مصلح موعود، یوم خلافت و غیرہ یا اور کوئی پروگرام جو مرکزی طور پر یا ریجن کے طور پر بنتے ہوں ان میں لجنہ ضرور شامل ہو۔اس کے علاوہ لجنہ خود بھی اپنے یہ اجلا سات اور جلسے کر سکتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذیلی تنظیمیں بنانے کا یہ مقصد تھا کہ جماعت کے ہر طبقے کو جماعتی ایکٹیوٹیز (Activities) میں شامل کیا جائے تاکہ ترقی کی رفتار میں تیزی پیدا ہو۔ہر ایک کا اپنا اپنا ایک لائحہ عمل ہو تا کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسابقت کی روح پیدا ہو۔گاڑی کی پڑی کی طرح، لائن کی طرح دونوں برابر چل رہے ہوں ، کہیں ٹکراؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک انعام ہے۔اس کی قدر کریں تا کہ اسلام اور احمدیت کی گاڑی اس پڑی پر منزلوں پر منزلیں طے کرتی چلی جائے اور ہم اسلام کا جھنڈا دنیا میں لہراتا ہوا دیکھیں۔جلسہ کے حوالے سے ایک بات میں عورتوں کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں۔عموماً عورتوں کی یہ شکایت ہوتی تھی کہ ان کی مارکی میں پروگراموں کے دوران شور بہت ہوتا ہے۔میری تقریر کے دوران بھی بچوں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ حد تک شورر رہتا تھا۔تو میں نے انتظامیہ کو کہا تھا کہ یوکے میں بھی اس طرح ہوتا ہے یہاں بھی یہی کریں کہ بچوں والی عورتوں کی علیحدہ مار کی ہو تا کہ جو مین مار کی ہے اس میں شور کم سے کم ہو۔عورتیں بے شک خود شور مچارہی ہوں ، باتیں کر رہی ہوں لیکن بچوں کی موجودگی کی وجہ سے ان کو بہانہ مل جاتا ہے کہ بچے شور کر رہے ہیں۔بہر حال اس دفعہ