خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 364
خطبات مسرور جلد پنجم 364 خطبہ جمعہ 17 ستمبر 2007 ء چکے ہیں۔لیکن جرمنی میں شروع سے ہی یہ مزاج اس لئے ہے کہ پاکستان سے بہت سے ایسے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ، جرمنی کی جماعت نے جب وسعت اختیار کرنا شروع کی تو ابتدا میں ہی یہاں ایسے لوگ آئے جن کو کام کا تجربہ تھا جو پاکستان کے جلسوں میں ڈیوٹیاں دیا کرتے تھے۔خدام الاحمدیہ کے تحت ٹرینینگ ہوتی رہی۔بلکہ جیسا کہ میں ایک دفعہ پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ اب جب انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان میں جلسے ہوں گے تو یہ فکر پیدا ہوتی ہے کہ ٹرینگ نہ ہونے کی وجہ سے ایک لمبا عرصہ گزر گیا ہے، وہاں کے انتظامات میں کوئی دقت نہ ہو اور جب انشاء اللہ تعالیٰ وہاں جلسہ ہو گا تو وہ بھی اتنا بڑا اور وسیع ہوگا کہ یو کے اور جرمنی کے دونوں جلسے ملا کر بھی شاید وہاں دس گنا زیادہ حاضری ہو۔لیکن بہر حال یہ فکر بھی رہتی ہے اور یہ تسلی بھی کہ جب موقع آتا ہے اللہ تعالیٰ خود انتظامات بھی فرما دیتا ہے۔وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی کام کر ہی لیتا ہے ، روٹین کا کام چاہے کریں نہ کریں لیکن احمدی مزاج میں ہنگا می کام کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔بہر حال میں جرمنی کے کارکنان کی آرگنائزڈ (Organized) طریقے پر کام کرنے کی بات کر رہا تھا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس لحاظ سے یہ بڑا آرگنا ئزڈ جلسہ ہوتا ہے۔اس میں انتظامی لحاظ سے بڑا ٹھہراؤ ہوتا ہے۔یو کے سے آئے ہوئے ایک عزیز نوجوان سے میں نے پوچھا کہ تمہیں UK کے جلسہ میں اور جرمنی کے جلسہ میں کیا فرق نظر آیا؟ تو اس کا فوری جواب یہ تھا کہ یہاں کا جلسہ زیادہ آرگنا ئز ڈ لگتا تھا۔اس کی زیادہ وجہ تو یہی ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستان سے آئے ہوئے ٹرینڈ کارکنان کا میسر آ جانا اور ان کا آگے پھر دوسروں کو بھی ٹریننگ دینا لیکن یہ سُن کے شاید یو کے والے پریشان ہورہے ہوں ، ان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ایک لمبے عرصے کی ٹریننگ کے بعد ان کے معیار بھی بڑے بلند ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں انتظامات کی بہتری کا نظر آنا اس جگہ کے میسر آنے کی وجہ سے بھی ہے جو جگہ مئی مارکیٹ یا من ہائم میں جماعت کو جلسے کے لئے ملی ہے جس میں بہت سے انتظامات موجود ہیں۔ایسا انفراسٹرکچر (Infrastructure) میسر ہے جس کی وجہ سے بہت سے کام نہیں کرنے پڑتے ، جس کی وجہ سے دوسرے کاموں میں بہتری کی زیادہ کوشش ہو جاتی ہے۔اتنی بڑی جگہ کا بہت سی سہولتوں کے ساتھ ملنا بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس کا شکر گزار بننا چاہئے۔گو کہ بعض قسم کی پابندیاں بھی ہیں جن میں سے گزرنا پڑتا ہے لیکن یہ پابندیاں بھی ہمارے فائدے کے لئے ہیں ، ہمارے کاموں میں بہتری پیدا کرنے کے لئے ہیں، ان کے معیار بلند کرنے کے لئے ہیں۔مثلاً محکمہ صحت یا جو بھی محکمہ ایسے معاملات سے تعلق رکھتا ہے اس نے لنگر خانہ کے معیار صفائی کو بہتر بنانے کا کہا تھا۔یہ تو بڑی اچھی بات ہے ، صفائی اور نظافت تو ایمان کا حصہ ہے اور بہت سے باہر سے آنے والوں نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ اس دفعہ ڈائننگ ہال کا معیار صفائی بھی بہت اچھا تھا۔