خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد پنجم 343 34 خطبہ جمعہ 24 راگست 2007 ء فرمودہ مورخہ 24 اگست 2007 (24 رظہور 1386 ہجری شمسی بمقام نن سپیسٹ۔(ہالینڈ) تشہد ، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی: أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيَاتِ اَنْ يُخْسِفَ اللهُ بِهِمُ الْأَرْضَ اَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ (النحل: 46) آج مادیت کی وجہ سے، مادیت پسندی کی وجہ سے انسان بعض اخلاقی قدروں سے دُور، مذہب سے دُور اور خدا سے دُور جا رہا ہے اور بہت کم ایسے ہیں جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ تمام وہ نعمتیں اور وہ چیزیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے انہیں انسان کے تابع کیا ہوا ہے اور پھر اس اشرف المخلوقات کو جو دماغ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس سے وہ نت نئی ایجادیں کر کے اپنی سہولت اور حفاظت کے سامان کر رہا ہے۔پس یہ بات ایسی ہے کہ جو انسان کو اس بات کی طرف توجہ دلانے والی بنی چاہئے کہ وہ اپنے خدا کا شکر گزار بنے ، اپنے مقصد پیدائش کو سمجھے ، جو کہ اس خدائے واحد کی عبادت کرنا ہے جس نے یہ سب نعمتیں مہیا کی ہیں، جس نے یہ تمام نظام پیدا کیا اور انسان کی خدمت پر لگایا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا بہت کم ایسے ہیں جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو نہ صرف سمجھتے نہیں بلکہ اس کے خلاف چل رہے ہیں اور مادیت پسندی اور مادیت پرستی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ نہ صرف مذہب سے تعلق نہیں رہا بلکہ مذہب کا مذاق اڑانے والے بن رہے ہیں، انبیاء کے ساتھ استہزاء کرنے والے ہیں اور ایسا طبقہ بھی ہے جو خدا کے وجود کا نہ صرف انکاری ہے بلکہ مذاق اڑانے والا ہے۔خدا سے انکار کے بارے میں کتابیں لکھی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں ان کا شمار ہوتا ہے، بڑی پسندیدہ کتب میں ان کا شمار ہوتا ہے۔یورپ اور مغرب میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو خدا سے دُور جارہے ہیں جو اس قسم کا بیہودہ لٹریچر پیدا کر رہے ہیں اور ایسے پیدا کردہ لٹریچر کو پسند کرنے والے ہیں اور اس بات میں یہ لوگ اس لحاظ سے مجبور ہیں ان کی بیچارگی بھی ہے کہ ان کو ان کے مذہب نے دل کی تسلی نہیں دی۔ایک خدا کی بجائے جو سب طاقتوں کا سرچشمہ اور ہر چیز کا خالق ہے، اس کو چھوڑ کر جب یہ لوگ ادھر ادھر بھٹکتے ہیں اور کئی خداؤں کے تصور کو جگہ دیتے ہیں، دعا کے فلسفے اور دعا کے معجزہ سے نا آشنا ہیں اور زندہ خدا کے تعلق سے