خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 339
خطبات مسرور جلد پنجم 339 خطبہ جمعہ 17 راگست 2007 ء مشکلات بے شک آتے ہیں۔لیکن آخر کار دشمن و کافر تباہ ہو جاتے ہیں۔مومنین کے مخالفین کے حصہ میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں آتا۔پس یہ ایک ایسا اصول ہے جو آنحضرت ﷺ سے قبل کے انبیاء اور مومنین کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی اور مسلمانوں میں مومنین کے لئے بھی قائم فرمایا اور آپ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان لانے والوں کے لئے یہ معیار قرار دے دیا کہ انجام کار کافروں کی تباہی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کافروں کی تباہی ، انکار کرنے والوں کی تباہی اور مومنوں کی کامیابی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو مُكَفِّرِین و مُكَذِّبِین ہیں ان کا بد انجام ہوگا اور بد انجام کا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذلِكَ بِاَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَاَنَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمُ ( محمد (12) یہ اس لئے ہے کہ اللہ ان لوگوں کا مولیٰ ہوتا ہے جو ایمان لائے اور کافروں کا یقیناً کوئی مولیٰ نہیں ہوتا۔پس حقیقی مومن اور تقویٰ پر قدم مارنے والوں کا مولیٰ اور دوست وہ عظیم جاہ و جلال والا خدا ہے جس کی بادشاہت تمام زمین و آسمان پر حاوی ہے۔پس جو ایسے جاہ و جلال اور قدرت رکھنے والے خدا کی آغوش میں ہو کیا اسے مخالفین کا مکر اور ان کی تدبیریں کچھ نقصان پہنچاسکتی ہیں؟ یقینا نہیں کبھی نہیں۔کیونکہ جو خدا تعالیٰ پر کامل ایمان لاتا ہے خدا اس کی حفاظت کے سامان پیدا فرماتا ہے۔یہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مدد فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم: (48) یعنی مومنوں کی مدد کر نا ہمارا فرض ہے۔پس یہ ہے مومنوں کا خدا جو کی لمحہ بھی اپنے مومن بندوں سے غافل نہیں۔یہ زمین و آسمان کا مالک خدا جس کو نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ آتی ہے، ہر وقت اپنے مومن بندے کی پکار پر ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔پس کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے اس خدا سے تعلق جوڑتے ہیں اور خشوع اور تقویٰ میں بڑھے ہوئے ہیں اور بڑھتے چلے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔جو خدا اپنے مومن بندے کی حفاظت و نصرت کے لئے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے، اس کو ماننے والے ہیں۔پس ہمیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آئے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی بیعت میں آنے والے ہی حقیقی مومن ہیں، ایک تو اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ صرف یہ ایک عمل کہ ہم بیعت میں آگئے کافی نہیں، بلکہ ہم نے اپنے اعمال کے بیج کی حفاظت کر کے اس کے اُگنے کے سامان کرنے ہیں۔پھر اس کے اُگنے کے بعد نرم سبزے کی حفاظت کرنی ہے۔پھر نرم سبزے نے جب ٹہنیوں کی صورت اختیار کرنی ہے اس کی نگہداشت کرنی ہے، اسے ہر قسم کے کیڑے مکوڑوں اور جانوروں سے محفوظ رکھنا ہے۔پھر اس پودے کی نگہداشت رکھتے ہوئے اسے مضبوط تنے پر کھڑا کرنا ہے، تب جا کر یہ ثمر آور درخت بنے گا، پھل دینے والا درخت بنے گا جو فائدہ پہنچائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو تمام اعمال اور اخلاق کے جامع ہوتے ہیں وہی متقی