خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 340

خطبات مسرور جلد پنجم 340 خطبہ جمعہ 17 اگست 2007 ء کہلاتے ہیں۔فرمایا کہ اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداً کسی میں ہو تو اسے متقی نہیں کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں۔کسی ایک نیکی کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو نیک نہ سمجھے تقویٰ پر قدم مارنے والا نہیں جب تک تمام اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں۔پس ایک تو یہ بات ہر وقت ہر احمدی کو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ ایمان میں مضبوطی کے لئے تمام نیکیوں کو اختیار کرنا اور ان میں بڑھتے چلے جانا ضروری ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کا دوست ہے اس لئے ان کی حفاظت فرماتا ہے اور کافر اس لئے تباہ ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی دوست نہیں۔اب اس مدد کو اور رنگ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ صرف دوست نہیں ہے اور صرف حفاظت ہی نہیں کرتا بلکہ مومنوں کو یہ ضمانت ہے کہ مومنوں کو کافروں پر فوقیت ہو گی۔اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے ایسے سامان پیدا فرمائے گا کہ جیت یقیناً مومنوں کی ہوگی ، غلبہ یقیناً تمہارا ہوگا۔مخالفین کی کثرت سے ان کے ساز و سامان سے، ان کے مکروں سے، ان کی حکومتوں سے تم پریشان نہ ہو۔ان کے حملے تمہارے ایمانوں میں کمزوری پیدا نہ کریں۔یاد رکھو کہ دشمنوں کے جتھے تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے اوپر فرض کر لیا ہے کہ انبیاء اور مومنین کی جماعت ہی آخر کار غالب آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے ذریعوں سے دشمن کی تباہی کے سامان کرتا ہے جو ایک عام آدمی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا۔جنگ بدر کے ذکر میں اللہ فرماتا ہے کہ اس وقت تمہاری کیا حیثیت تھی۔آنحضرت ﷺ تڑپ تڑپ کر اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کر رہے تھے کہ اگر آج مومنین کی چھوٹی سی جماعت ختم ہوگئی تو پھر اے اللہ ! تیرا نام لیوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہوگا اور اس جنگ میں ساز وسامان اور تعداد کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اور کفار کی کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔لیکن نتیجہ کیا نکلا۔ان دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے جو آنحضرت ﷺ نے کیں اور مومنین کے ایمان کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور کفار کی اس کثرت کو بے بس اور مغلوب کر دیا۔ہر طرف ان کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمُ (الانفال : 18) یعنی یا درکھو کا فروں کو تم نے نہیں مارا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مارا تھا اور پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رمى (الانفال: 18) کہ جب تم نے مٹھی بھر کنکر پھینکے تھے تو تو نے نہیں پھینکے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکے تھے۔پس اس جنگ میں کافروں کو ذلیل و خوار کر دیا۔وہ جو مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے آئے تھے کہ آج مٹھی بھر مسلمان ہیں ان کو ختم کر دیں گے خود نہایت ذلیل و خوار ہو کر گئے۔اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تسلی دلائی کہ یہ میری مدد کی اور اس وعدے کی (کہ غلبہ انشاء اللہ تمہارا ہے ) ایک جھلک ہے۔