خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 338

خطبات مسرور جلد پنجم 338 خطبہ جمعہ 17 راگست 2007 ء پھر وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت (70) کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجالائے۔یہ نہ کرے کہ پانی اگر ہیں ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہار دے۔ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہارے۔پھر اس اُمت کے لئے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا اور تزکیہ نفس سے کام لے گا تب قرآن شریف کے وعدے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 224-223 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ دوستی کا حق ادا کرتا ہے، اس دنیا میں بھی انعامات سے نوازتا ہے، دنیاوی ضروریات بھی پوری کرتا ہے، روحانی ترقیات سے نوازتا ہے۔اس دنیا کو بھی جنت بناتا ہے اور مرنے کے بعد بھی ہمیشہ رہنے والی جنت میں مومن کو رکھے گا۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی مومنین کے ساتھ قرآن میں بے شمار وعدے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پورا فرماتا ہے اور آج بھی ہم ان کو مختلف شکلوں میں پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ، دیکھتے ہیں۔ہزاروں احمدی اس وعدے کے مطابق اپنی دعاؤں کی قبولیت کے نشان دیکھتے ہیں۔خلافت کا جاری نظام بھی خدا تعالیٰ کے وعدوں میں سے ایک بہت بڑا وعدہ ہے جو مومنین کے سکون کے لئے اور ان کو تمنت دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔احمدیوں کے ساتھ ، مومنین کی جماعت کے ساتھ ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سچا تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ، گزشتہ سو سال سے ہم یہ وعدہ بڑی شان سے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں اور ایک احمدی کی سکون اور آرام کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے۔کئی قسم کے فتنہ اور فساد سے احمدی بچے ہوئے ہیں جن میں جو دوسرے ہیں وہ ڈوبے پڑے ہیں۔مجھے ایک دوست نے بتایا کہ جب یو کے میں گزشتہ دنوں جلسہ ہوا تھا تو امریکہ میں ان کے ایک دوست ان کو ملنے آئے۔اس وقت میری تقریر شروع ہونے والی تھی ، میرے حوالے سے بتایا کہ ان کی تقریر ہے میں تو ابھی ٹی وی پر سنے لگا ہوں آپ بیٹھ کے میرا ذرا انتظار کر لیں۔تو انہوں نے کہا میں بھی آپ کے ساتھ سنتا ہوں۔شیعہ دوست تھے پاکستان سے امریکہ آئے ہوئے تھے۔پڑھے لکھے آدمی تھے پوری تقریر انہوں نے سنی اور اس کے بعد کہنے لگے کہ مجھے مذہب سے ویسے زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن آج مجھے پتہ لگا ہے کہ کیوں احمدی دوسروں سے مختلف ہیں۔احمدی میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے اسلام کی راہنمائی کرنے کے لئے ایک انتظام کیا ہوا ہے جو ہمارے اندر نہیں۔ایک آواز کے ساتھ تم لوگ اٹھتے بیٹھتے ہو۔تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ جماعت کے حق میں پورا ہورہا ہے۔پھر قرآن کریم کے وعدوں میں سے اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے کہ وہ کافروں کے مقابلے میں مومنوں کا مددگار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ بڑے واشگاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ تم دنیا میں پھر لو ، تاریخ مذاہب پر نظر ڈال لو، کہیں بھی تمہیں یہ نظر نہیں آئے گا کہ نبیوں کی جماعت کا اور مومنوں کا آخری نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلا ہو۔عارضی ابتلا اور