خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 333

333 خطبہ جمعہ 10 راگست 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم رضا کے حصول کے لئے کوشاں رہنے والوں کو ان پھلوں کے مزے چکھاتا ہے ، ان پھلوں کو دکھاتا ہے جو قبولیت دعا کے ذریعہ سے بھی ہوتے ہیں۔ایک مومن کی روحانی ترقی کی وجہ سے اس کا دل سکون اور قناعت کی صورت میں ہوتا ہے جو اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے، یہ بھی ان پھلوں میں سے ہے۔دینی اور دنیاوی نعمتیں بھی ایک مومن کو اس دنیا میں ملتی ہیں اور یہ دنیاوی نعمتیں اس کا مقصود نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان اعمال کی وجہ سے جو ایک مومن خدا کی رضا کے حصول کے لئے بجالاتا ہے یا بجالا رہا ہوتا ہے، اسے عطا فرماتا ہے۔پس ہر عمل صالح تب ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس کو بجالا رہے ہوں گے۔ورنہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ نمازیں پڑھنے والے ہیں جن کی نمازیں ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں حالانکہ نماز پڑھنا نیک عمل ہے۔اسی طرح بہت سے لوگ بعض دفعہ بہت خرچ کرتے ہیں لیکن ان میں ایمان نہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نہیں کر رہے ہوتے بلکہ دنیا دکھاوے کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اس لئے وہ عمل ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ایک شخص ، ایک یہودی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بارش میں جانوروں کو دانہ ڈال رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ اجر دیا کہ اس کو ایمان نصیب ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے جو عمل ہوگا وہ ایمان میں بھی بڑھاتا ہے، ایمان نصیب بھی کرتا ہے اور اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بناتا ہے اور آخرت میں بھی بناتا ہے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے کہ درختوں کی سرسبزی کے لئے پانی ضروری ہے اسی طرح ایمان کی مضبوطی اور سرسبزی کے لئے اعمال صالحہ ضروری ہیں۔تمام وہ نیک اعمال بجالانے ضروری ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں۔جو اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہیں ، جو ایمان میں بڑھنے کے لئے ہیں۔پس اس سوچ کے ساتھ ہر احمدی کو اپنی عبادتیں بھی کرنی چاہئیں اور دوسرے اعمال بھی بجالانے چاہئیں تاکہ ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی چلی جائے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ہم وارث بنتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ اسی سوچ کے ساتھ ہر احمدی کو زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا:۔بھی جمعہ کی نماز کے بعد انشاء اللہ میں دو نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ایک تو صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ کا ہے، جو میری خالہ تھیں اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی حضرت ام ناصر کے بطن سے بیٹی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی بہو تھیں، مرزا حمید احمد صاحب کی بیوی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اپنے بچوں کی آمین لکھی ، حضرت مرزا ناصر احمدخلیفہ مسیح الثالث سے ان تک کے بچوں کی ، اس میں آپ کے بارے میں بچپن میں یہ لکھا کہ ”عزیزہ سب سے چھوٹی نیک فطرت ، اس آمین کا ایک مصرعہ ہے )۔بڑی صبر کرنے والی تھیں، تو گل کا اعلیٰ مقام تھا، نیک تھیں ، ملنسار تھیں ، بڑی دعا گو تھیں۔نماز میں بڑے انہماک اور توجہ سے ادا کرتیں۔ان کی نمازیں بڑی لمبی ہوا کرتی تھیں۔کئی کئی گھنٹے مغرب کی نماز عشاء تک اور عشاء کی نماز