خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد پنجم 334 خطبہ جمعہ 10 راگست 2007 ء آگے کئی گھنٹے تک تو میں نے ان کو پڑھتے دیکھا ہے اور یہ روزانہ کا معمول تھا۔اللہ کے فضل سے بڑی دعا گو غریب پرور خاتون تھیں۔آپ کو خلافت سے بڑا تعلق تھا۔مجھے بھی بڑی عقیدت سے خط لکھا کرتی تھیں۔جماعتی طور پر پہلے سترہ سال لاہور کی نائب صدر لجنہ رہیں۔1967ء سے 1983 ء تک لاہور میں صدر لجنہ رہیں۔اللہ کے فضل سے لاہور کی لجنہ کے لئے بڑا کام کیا۔عالمی بیعت کے دنوں میں ایک سبز کوٹ پہلے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ عالی پہن کرتے تھے اور اب میں پہنتا ہوں ، یہ کوٹ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے ان کے خاوند محترم صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب کے حصہ میں آیا تھا۔جب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے یہاں ہجرت کی تو یہ کوٹ انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو دیا کہ آپ جب تک وہاں ہیں اس کوٹ کو آپ جب بھی پہنیں میرے لئے بھی دعا کیا کریں۔اس کے بعد مرزا حمید احد صاحب کی وفات تو حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے زمانے میں ہوگئی تھی۔صاحبزادی امتہ العزیز نے یہ کوٹ دے دیا۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کی وفات کے بعد میں نے ان کو کہا کہ یہ کوٹ آپ لوگوں نے امانتا دیا ہوا تھا تو انہوں نے مجھے اپنی بیٹیوں سے پوچھ کر لکھ کر دیا کہ یہ کوٹ اب عالمی بیعت کی ایک نشانی بن چکا ہے، اس لئے ہم اس کو خلافت کو ہبہ کرتے ہیں اور انہوں نے یہ تبرک خلافت کے لئے دے دیا۔ان کے لئے جماعت کو بھی دعا کرنی چاہئے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک تبرک، چھوٹا سا کپڑا بھی کوئی نہیں دیتا، بڑی قربانی کر کے یہ کوٹ دیا ہوا ہے۔آپ کی تین بیٹیاں ہیں۔ایک مصطفی خان صاحب لاہور کی اہلیہ ہیں جو حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے بیٹے ہیں۔دوسری امتہ الرقیب ہیں جو ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب جو ربوہ کے ہیں ان کی بیگم ہیں اور تیسری کوثر حمید ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان نیکیوں پر قائم فرمائے جوان میں تھیں۔دوسرا جنازہ نعیمہ سعید صاحبہ اہلیہ ملک سعید احمد رشید صاحب مربی سلسلہ کا ہے۔ان کے نانا ، دادا، پڑدادا یہ سب صحابی تھے۔عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی کی پوتی تھیں اور منشی عبدالرحمن صاحب کی پڑپوتی تھیں۔علاوہ واقف زندگی کی بیوی ہونے کے ان کی لجنہ میں بھی کافی خدمات ہیں۔لجنہ ہو میو کلینک انہوں نے بڑی اچھی طرح چلا یا اور اپنی بیماری کے باوجود بڑی ہمت اور محنت سے کام کرتی رہیں۔ان کی تقریباً جوانی کی ہی عمر تھی۔یہ 49 سال کی عمر میں فوت ہو گئیں۔ان کے بچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی صبر دے اور ان کی دعائیں اپنے بچوں کے لئے قبول فرمائے۔ان کا ہمیشہ حافظ و ناصر رہے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 31 اگست تا 6 ستمبر 2007 ء ص 5 تا 8 )