خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 332

خطبات مسر و رجلد پنجم ہوں گے۔332 خطبہ جمعہ 10 راگست 2007 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے اعمال کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے دو کہ وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے ندیاں بہ رہی ہیں۔اس آیت میں ایمان کو اللہ تعالیٰ نے باغ سے مثال دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے۔جو رشتہ اور تعلق نہر جاریہ اور درخت میں ہے وہی رشتہ اور تعلق اعمال صالحہ کو ایمان سے ہے۔پس جیسے کوئی باغ ممکن ہی نہیں کہ بغیر پانی کے بڑوں سرسبز اور ثمر دار ہو سکے ( پانی کے بغیر پھل نہیں لگ سکتے ، درخت سرسبز نہیں رہ سکتا اسی طرح پر کوئی ایمان جس کے ساتھ اعمال صالحہ نہ ہوں مفید اور کارگر نہیں ہوسکتا۔پس بہشت کیا ہے وہ ایمان اور اعمال ہی کے مجسم نظارے ہیں۔وہ بھی دوزخ کی طرح کوئی خارجی چیز نہیں ہے بلکہ انسان کا بہشت بھی اس کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔یادرکھو کہ اُس جگہ پر جو راحتیں ملتی ہیں وہ وہی پاک نفس ہوتا ہے جو دنیا میں بنایا جاتا ہے۔پاک ایمان پودا سے مماثلت رکھتا ہے اور اچھے اچھے اعمال، اخلاق فاضلہ یہ اس پودا کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں جو اس کی سرسبزی اور شادابی کو بحال رکھتے ہیں۔اس دنیا میں تو یہ ایسے ہیں جیسے خواب میں دیکھے جاتے ہیں مگر اس عالم میں محسوس اور مشاہدہ ہوں گئے“۔فرمایا کہ: ”یہی وجہ ہے کہ لکھا ہے کہ جب بہشتی ان انعامات سے بہرہ ور ہوں گے تو یہ کہیں گے کہ هَذَا الَّذِى رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأَتُوْا بِهِ مُتَشَابِهًا (البقرة:26 ) اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ دنیا میں جو دودھ یا شہر یا انگور یا انار وغیرہ چیزیں ہم کھاتے پیتے ہیں وہی وہاں ملیں گی۔نہیں ، وہ چیزیں اپنی نوعیت اور حالت کے لحاظ سے بالکل اور کی اور ہوں گی۔ہاں صرف نام کا اشتراک پایا جاتا ہے اور اگر چہ ان تمام نعمتوں کا نقشہ جسمانی طور پر دکھایا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بتادیا گیا ہے کہ وہ چیز میں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت پیدا کرنے والی ہیں۔ان کا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔رُزِقُنَا مِنْ قَبل سے یہ مراد لینا کہ وہ دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں ، بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اس آیت میں یہ ہے کہ جن مومنوں نے اعمالِ صالحہ کئے ، انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا جس کا پھل وہ اس دوسری زندگی میں بھی کھائیں گے اور وہ پھل چونکہ روحانی طور پر دنیا میں بھی کھا چکے ہوں گے اس لئے اُس عالم میں اُس کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں۔اور یہ وہی روحانی ترقیاں ہوتی ہیں جو دنیا میں کی ہوتی ہیں اس لئے وہ عابد و عارف ان کو پہچان لیں گے، میں پھر صاف کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ جہنم اور بہشت میں ایک فلسفہ ہے جس کا ربط باہم اسی طرح پر قائم ہوتا ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 21 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اعمال کی یہ سرسبزی اسی وقت تک قائم ہوگی جب تک اعمال صالح ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے ہم اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔پس مومنوں کو یہ خوشخبری صرف انگلی زندگی کے لئے نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے لئے اس دنیا میں بھی نیک عمل کرنے والوں اور اس کی