خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 326
خطبات مسرور جلد پنجم 326 خطبه جمعه 03 / اگست 2007 ء وسعت ہوگی۔یہاں کی انتظامیہ تو اپنی کمیوں اور غلطیوں کو لال کتاب میں اس جلسہ کے لئے ( جو ہر جماعت میں بنائی جاتی ہے ) لکھ لے گی اور انشاء اللہ تعالیٰ ان کا مداوا بھی کرے گی۔لیکن دوسرے لوگ جو یہاں نمائندے آتے ہیں ان کو بھی اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنی چاہئے۔انہیں بھی اپنی اصلاح کے لئے ان باتوں کو نوٹ کر لینا چاہئے تا کہ آئندہ سال جیسا کہ میں نے کہا جلسوں میں جو وسعت ہوگی اس میں بہترین انتظام ہوگا۔خاص طور پر جن ملکوں میں اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں جلسوں میں شامل ہوں گا ان کے انتظامات زیادہ وسعت کے متقاضی ہوں گے۔تو زیادہ پہلوؤں پر غور کرنا ہو گا۔اس لحاظ سے بھی تمام دنیا کی جماعتیں بھی جائزے لیں اور ان جلسوں کا جو مقصد ہے وہ ہم حاصل کرنے والے ہوں۔ہمیں ہمیشہ اس بات کو یا درکھنا چاہئے کہ ہر احمدی کو چاہے وہ دنیا کے کسی ملک میں بس رہا ہے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ یادر کھے کہ تقویٰ پیدا ہو گا تو شکر گزاری کے جذبات بھی بڑھیں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (آل عمران: 124) اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم شکر گزار بنو۔پس حقیقی شکر گزار بھی وہی ہوسکتا ہے جو اللہ کا خوف رکھتا ہو۔اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔اس بات کا فہم و ادراک رکھتا ہو۔اور اس جلسے میں شمولیت کا فائدہ بھی تبھی ہوگا جب اس مقصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔جب ہم اس طرح زندگیاں گزاریں گے تو حقیقی شکر گزار بنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق مزید انعامات اور برکات حاصل کرنے والے ہوں گے اور پہلے۔بڑھ کر ہم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کی بارش ہم پر ہوگی، انشاء اللہ۔پس پھر میں کہتا ہوں کہ ہر احمدی اس بات پر شکر گزار ہو کہ اس نے مسیح موعود کا زمانہ پایا جس کا انتظار کرتے لوگ دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ کے بلانے پر اس جلسے میں آئے اور شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے افضال و برکات کو اترتے ہوئے دیکھا۔کام کرنے والوں کے اخلاص و وفا کو دیکھا ، غیروں کو متاثر ہوتے دیکھا۔شکر گزاری کے یہ جذبات جتنے بڑھیں گے اور تقویٰ میں ترقی کے ساتھ شکر گزاری جتنی زیادہ ہو گی اتنے ہی اللہ تعالیٰ کے انعامات کو سمیٹنے والے بنتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ شکر گزاری کی حقیقی روح کو سمجھنے والے ہوں۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 24 تا 30 اگست 2007ء ص 5 تا 8 )