خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 316
خطبات مسرور جلد پنجم 316 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء سفر کی مشقتوں اور غمگین ہو کر واپس لوٹنے، کام سنورنے کے بعد اس کے بگڑنے اور مظلوم کی بددعا اور اہل وعیال اور اموال میں بُرا منظر دیکھنے سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔(مسلم کتاب الحج باب ما يقول اذار كب الى سفر الحج حدیث نمبر (1342 اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔نہ سفر کی صعوبتیں ان کو نقصان پہنچائیں ، نہ موسم کی شدت انہیں کوئی نقصان پہنچائے اور خیریت سے گھروں کو جائیں۔جلسہ پر شامل ہونے والوں کو دعائیں دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس جلسے پر جس قدرا حباب محض اللہ تکلیف سفر اٹھا کر حاضر ہوئے خدا ان کو جزائے خیر بخشے اور ان کے ہر قدم کا ثواب ان کو عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔پھر آپ فرماتے ہیں : بالآخر میں دعا پر ختم کرتا ہوں کہ ہر ایک صاحب جو اس لہی جلسے کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہمت و غم دور فرما دے اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفران کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے خدا! اے ذوالمجد والعطاءاے رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت و طاقت تجھی کو ہے۔آمین ثم آمین۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام دعاؤں کا وارث بنائے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 282 جدید ایڈیشن) مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 17 تا 23 اگست 2007 ء ص 5 تا 8 )