خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد پنجم 315 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء لئے اس نظام سے بھی مکمل طور پر تعاون کریں اور یہ اعتراض پیدا نہ ہو ک مجھے کیوں چیک کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ایک واقعہ ہے کہ قادیان میں جب احرار کا خطرہ تھا اور خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار یا دوسری قبروں کی وہ لوگ بے حرمتی نہ کریں تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بہشتی مقبرہ میں خدام کا پہرہ لگوایا اور کو ڈنمبر دیئے کہ جو بھی ہو اگر کوئی کوڈ نمبر کے بغیر اندر آنے کی کوشش کرے اس کو اندر نہیں آنے دینا تو ایک دفعہ چیک کرنے کے لئے حضرت خلیفہ امسیح الثانی خود چھپ کر گئے۔غالباً رات کا وقت تھا۔خدام نے روکا۔آپ نے اپنا نام بتایا۔خدام نے کہا نہیں اس طرح اجازت نہیں مل سکتی جب تک آپ اپنا کوڈ نمبر نہیں بتا ئیں گے اور اس بات پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے بڑی خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ یہ خدام ہیں جنہوں نے اپنی صحیح ڈیوٹی دی ہے۔تو یہ جو انتظام ہے یہ ہمارے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے۔اس میں کسی بھی قسم کی برا منانے والی بات نہیں ہے۔لیکن ڈیوٹی والی خواتین ہیں یا مرد ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اپنے رویوں سے کسی بھی قسم کا ایسا اظہار نہیں کرنا چاہئے جس سے تختی، کرختگی یا کسی بھی طرح کا یہ احساس ہو کہ آپ دوسرے سے عزت سے پیش نہیں آتے۔بعض بلاوجہ کی سختی کرتے ہیں، گزشتہ سال بھی شکایات آتی رہی تھیں۔اللہ تعالیٰ اس جلسے کو بابرکت فرمائے اور ہر ایک کو ہر لحاظ سے اپنی حفاظت میں رکھے اور کوئی ایسی بات نہ ہو جو کسی کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنے اور جیسا کہ میں نے کہا عمومی طور پر سب شامل ہونے والوں اور ڈیوٹی والوں کو اپنے ماحول پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ یہ سیکیورٹی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔جب ہر ایک چوکس ہوگا تو شرارت کرنے والوں کو آسانی سے شرارت کا موقع نہیں ملتا۔لیکن اس بارے میں ایک بات یاد رکھیں کہ اگر کوئی مشکوک مرد یا عورت کو دیکھیں تو اس پر نظر رکھیں اور حفاظت کے شعبہ کو اطلاع کریں۔خود براہ راست اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور سیکیورٹی والوں کے آنے تک اس پر نظر رکھیں۔ہر ایک خود بھی اس بات کی پابندی کرے کہ اپنے شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں بلکہ سامنے رکھیں اور کارکنان کی طرف سے شناختی کارڈ دکھانے کا جب بھی مطالبہ ہو تو فوراً ان کو دکھا دیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ گزشتہ سال تمام فکروں کے باوجود اس علاقے کے لوگ ہمارے ڈسپلن اور تنظیم سے بہت متاثر ہوئے تھے اس سال بھی خاص طور پر اس کا خیال رکھیں۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی توفیق دے۔ان دنوں میں اپنے لئے اور اپنے گھروں میں پیچھے چھوڑے گھر والوں کے لئے بھی دعائیں کریں۔آنحضرت ﷺ سفر پر جاتے ہوئے جو دعائیں کرتے تھے ان میں سے ایک اس طرح سے ہے۔حضرت عبد اللہ بن ساجد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تھے تو