خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 294

خطبات مسرور جلد پنجم 294 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء اللہ تعالیٰ کے سلوک کی وجہ سے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ایمان میں بڑھنے کے ساتھ اس کا تو گل بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اس میں وہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔وہ دنیاوی چیزوں پر گرنے کی بجائے اور انہی پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے اپنی کوشش کرنے کے بعد جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسباب کا استعمال بھی ہونا چاہئے اور محنت بھی ہونی چاہئے پھر بہتر نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑتا ہے۔اونٹ کا گھٹا باندھنے کے بعد اس رتی پر تو گل نہیں کرتا جس سے گھٹنا باندھا گیا ہے بلکہ اس مالک پر توکل کرتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے، جونگران ہے، جو حفاظت کرنے والا ہے پس یہ تو کل ہے جو ایک مومن کا طرہ امتیاز ہے اور ہونا چاہئے اور یہ اس کی خصوصیت ہے۔پھر ایک مومن کی نشانی یہ بتائی کہ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دَعَوْا إِلَى اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأَوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (النور: 52) مومنوں کا قول جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے محض یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی ہیں جو مراد پانے والے ہیں۔اللہ اور رسول کی کامل اطاعت تبھی ہوگی جب ان تمام احکامات کی پیروی ہوگی جو اللہ اور رسول نے دیئے ہیں۔صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی کافی نہیں۔مثلاً اہم معاملات میں جو مسائل اور جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں اُن میں بھی اللہ اور رسول کا حکم ہے کہ میرے امیر کی اور نظام کی اطاعت کرو۔اس کی پوری پابندی کرنا بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء : 66 ) نہیں، تیرے رب کی قسم وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنالیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے پھر تو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔یہ صرف آنحضرت کے بارے میں نہیں ہے گو پہلے مخاطب آپ ہی ہیں، اس کے بعد آپ کا نظام ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے امیر کی اطاعت اور نظام کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔خلفاء اور نظام جماعت کی اطاعت بھی ہر ایک مومن پر جو بیعت میں شامل ہے، ماننے والا ہے، حقیقی مومن ہے، اس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔اور اطاعت اور فیصلوں کی پابندی صرف نہیں کرنی بلکہ خوشی سے ان کو مانا ہے۔سزا کے ڈر سے نہیں ماننا بلکہ اطاعت کے جذبے سے اور یہی چیز ہے جو مسلمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والی ہوگی۔پس ہر احمدی کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ جھگڑوں کی صورت میں ، ( جو ذاتی جھگڑے ہوتے ہیں ) ، اپنے دماغ میں