خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 295
خطبات مسرور جلد پنجم 295 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء سوچے ہوئے فیصلوں کو اہمیت نہ دیا کریں بلکہ نظام کی طرف سے جو فیصلہ ہو جائے ، قضا کی طرف سے ہو جائے جو کئی مرحلوں میں سے گزرنے کے بعد ہوتا ہے اسے اہمیت دیں۔پھر بعض وقت خلیفہ وقت کی طرف سے بھی انہی فیصلوں پر صاد ہوتا ہے۔اس کے باوجود یہ زور ہوتا ہے کہ نہیں ، فیصلہ غلط ہوا ہے۔ٹھیک ہے، فیصلہ غلط ہو سکتا ہے لیکن فیصلہ کرنے والے کی نیت پر شبہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے پھر فتنہ پیدا ہوتا ہے۔اور پھر مسلسل اس کے خلاف باتیں کرنا اور پھر یہ کہنا کہ اب مجھے دنیا وی عدالتوں میں بھی جانے کی اجازت دی جائے تو یہ ایک مومن کی شان نہیں ہے۔مومن وہی ہیں جو خوشی سے اس فیصلے کو تسلیم کر لیں۔اگر کسی نے اپنی لفاظی کی وجہ سے یا دلائل کی وجہ سے اپنے حق میں فیصلہ کروالیا ہے یا غلط ریکارڈ کی وجہ سے فیصلہ کروالیا ہے اور دوسرا فریق اپنی کم علمی کی وجہ سے یا ریکارڈ میں کمی کی وجہ سے اپنے حق سے محروم بھی ہو گیا ہے تو پھر اللہ کے رسول ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ غلط فیصلہ کروانے والا آگ کا گولہ لیتا ہے یا اپنے پیٹ میں بھرتا ہے تو پھر وہ اس کا اور خدا کا معاملہ ہو گیا۔(صحیح بخاری کتاب الشهادات باب من اقام البينة بعد اليمين حدیث نمبر (2680) مومنین کی شان یہ ہے کہ فتنے سے بچیں۔نظام کے خلاف باتیں کر کے، بول کر اپنے حق سے محروم کئے جانے والا شخص اگر اپنے زعم میں ، اپنے خیال میں اپنے آپ کو صحیح بھی سمجھ رہا ہے تو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بھی ایمان سے محروم کر رہا ہوتا ہے۔بعض دفعہ یہ چیز دیکھنے میں آتی ہے۔پس مومن کی ایک بہت بڑی خصوصیت اطاعت ہے۔امن قائم کرنے کے لئے تھوڑا سا نقصان بھی برداشت کرنا ہو تو کر لینا چاہئے اور اطاعت کو ہر چیز پر حاوی کرنا چاہئے اور اس کو ہر چیز پر مقدم سمجھنا چاہئے۔اللہ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنا اور اس پر تو گل کرنا ایسی چیز ہے جس پر اللہ تعالیٰ انعامات سے نوازتا ہے اور پھر ایسے ذرائع سے مددفرماتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ مومنین کی یہ خصوصیت بیان فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يُؤْ مِنَ بِايْتِنَا الَّذِيْنَ إِذَا ذَكَرُوا بِهَا خَرُوا سُجَّدًا وَسَبِّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (السجدة: 16) يقينا ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب اُن آیات کے ذریعہ سے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔پس جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی آیات ایک مومن کو خوف میں بڑھاتی ہیں اور اس کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔پس خوف اور ایمان میں بڑھتے ہوئے اور اس دلی خواہش کے ساتھ