خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 290
خطبات مسرور جلد پنجم 290 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء پھر ایک سچے مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة: 4) اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔یعنی اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی خرچ کرتے ہیں اور یہ خرچ دولت کا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دی ہیں ، جو کسی کو بھی دوسرے سے زیادہ عطا کی ہیں اس کو دوسروں کی بہتری کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اور یہی بے نفس خدمت ہے جو پھر ایک مومن کو دوسرے مومن کے ساتھ ایسے رشتے میں پیوست کر دیتی ہے جو پکا اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہوتا ہے۔مومنین کی جماعت میں ایک ایکا اور وحدانیت پیدا ہو جاتی ہے، ایک مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے اور ہر سطح پر اگر اس سوچ کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے ، اپنی دولت اور اپنی دوسری صلاحیتوں کو خرچ کیا جائے تو ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جس میں محبت، پیار، امن اور سلامتی نظر آتی ہے۔گھروں کی سطح پر خاوند بیوی کا خیال رکھ رہا ہو گا۔بیوی خاوند کا خیال رکھ رہی ہوگی۔ماں باپ بچوں کی بہتری کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور ذرائع کا استعمال کر رہے ہوں گے۔بچے ماں باپ کی خدمت پر ہر وقت کمر بستہ ہوں گے، ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ان کی خدمت کی طرف توجہ دے رہے ہوں گے۔ہمسایہ، ہمسائے کے حقوق ادا کر رہا ہوگا ، غریب امیر کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرے گا اور امیر غریب کی بہتری کے لئے خرچ کر رہا ہو گا اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہم مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ یہ کرو اور اس طرح پر سب مل کر پھر جماعتی ترقی کے لئے اپنے مال اور صلاحیتوں کو خرچ کر رہے ہوں گے اور پھر وہ معاشرہ نظر آئے گا جو مومنین کا معاشرہ ہے۔اللہ کے فضل سے جماعت میں مال خرچ کرنے کی طرف بہت توجہ رہتی ہے، جماعتی ضروریات کے لئے بھی احمدی بڑے کھلے دل سے قربانیاں کرتے ہیں ، ہر وقت تیار رہتے ہیں اور ہر روز اس کی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔جون کا مہینہ جو گزرا ہے، یہ مہینہ جماعت کے چندوں کا ، جماعتی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ہر سال مختلف ممالک کی جماعتوں کو فکر ہوتی ہے کہ بجٹ پورا ہو جائے اور نہ صرف بجٹ پورا ہو جائے بلکہ گزشتہ سال کی نسبت قدم ترقی کی طرف بڑھے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مومنین کی جماعت پر اس کا اظہار فرماتا ہے کہ ان کے قدم آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔اس سال بھی اکثر ممالک کی جماعتوں نے اپنے بجٹ اور گزشتہ سال کی قربانیوں سے بہت بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔کئی چھوٹے چھوٹے ملک بھی ہیں کہ اپنے بجٹ سے کئی کئی گنا زائد وصولی کی ہے۔پاکستان میں بھی باوجود حالات خراب ہونے کے قربانیوں میں ترقی کی ہے، مثلاً کراچی کے حالات بہت خراب تھے مئی کے شروع میں جب وہاں فساد ہوئے تو امیر صاحب کراچی کا بڑی پریشانی کا فون آیا۔پھر فیکس آئی کہ حالات ایسے ہیں اور سال کا آخر ہے چندوں میں کمی ہورہی ہے۔خیر اللہ نے فضل فرمایا اور ہو گیا، لیکن عموماً جماعت کا مزاج یہ ہے کہ سال کے آخری مہینے کے آخری دنوں میں اپنے چندوں کی ادائیگی پوری طرح کرتے ہیں۔تو جون کے آخر میں پھر کراچی کے