خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد پنجم 280 خطبہ جمعہ 06 جولائی 2007ء والے ہی اللہ تعالیٰ کی صفت مومن سے حقیقی فیض پانے والے ہیں ، ایمان میں بڑھنے والے ہیں ، امن میں رہنے والے ہیں اور امن قائم کرنے والے ہیں اور ہونے چاہئیں۔یہ خصوصیات ہر احمدی میں ہونی چاہئیں۔پس ہر احمدی کو اپنے ایمان میں ترقی کرتے ہوئے اس اہم بات کو ہمیشہ اپنے پلے باندھے رکھنا چاہئے کہ صرف منہ سے مان لینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایمان میں بڑھنا اس میں ترقی کرنا، یہی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی صفت مومن سے حقیقی رنگ میں فیضیاب کرنے والا بنائے گا اور نہ اگر تعلیم پر عمل نہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ایک حصہ کو تو مان لیا کہ ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہمیں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ملے اور جنہیں اس زمانے میں آپ کے غلام صادق نے پھر خوبصورت انداز میں پیش کر کے ان پر عمل کرنے کی ہمیں نصیحت فرمائی ، اس پر ہم پوری طرح کار بند ہونے کی کوشش نہ کر کے عملاً اپنے ایمان کو کمزور کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کے ایمان کو مضبوط کرتا چلا جائے ، اسے اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ وہ اپنی ذات میں بھی اور اپنے معاشرے میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کا حقیقی پر تو نظر آئے۔مومن کے مزید معانی جو اہل لغت اور مفسرین نے بعد میں پیش کئے ہیں ، اب میں وہ بیان کرتا ہوں۔لسان العرب کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفت المؤمن کا ایک معنی یہ کیا گیا ہے کہ مومن وہ ہستی ہے جس نے اپنی مخلوق کو اس بات سے امن عطا کیا کہ ان پر ظلم کرے۔بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مومن وہ ذات ہے جس نے اپنے اولیاء کو اپنے عذاب سے امن بخشا ہے۔پہلے معنی وسعت کے لحاظ سے زیادہ وسیع دائرے میں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت تو ہر چیز پر حاوی ہے، اس لئے ظلم کا تو سوال ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو عذاب کا سوال کیا ؟ وہ تو خود بخو دامن میں آ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے اولیاء پر جو ابتلاء آتے ہیں ، حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ وہ تو ان کا ایک امتحان ہوتا ہے جس میں سے وہ گزرتے ہیں اور بجائے شکوہ کے اللہ تعالیٰ کی مدد اور دعاؤں سے اس میں سے گزر جاتے ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 1392-391 جدید ایڈ یشن مطبوعہ ربوہ ) ابوالعباس کہتے ہیں کہ عربوں کے نزدیک الْمُؤْمِنُ کا معنی الْمُصَدِّق ہے اور مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اُمتوں سے رسولوں کی تبلیغ سے متعلق سوال کرے گا تو وہ کسی بھی رسول کی بعثت کا انکار کر دیں گے اور اپنے انبیاء کی تکذیب کریں گے۔پھر امت محمدیہ لائی جائے گی اور ان سے یہی سوال کیا جائے گا تو وہ سابقہ انبیاء کی بھی تصدیق کریں گے ، اس پر اللہ تعالیٰ ان کی تصدیق کرے گا۔اس معنی میں اللہ تعالیٰ کو مومن یعنی المُصَدِق کہا گیا ہے نیز محمد ﷺ اپنی امت کی تصدیق کریں گے اور یہی مضمون اس آیت کریمہ کا ہے جو فرمایا فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلّ أُمَّةٍ بِشَهِيدِ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَائِ شَهِيدًا (النساء : 42) یعنی پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔