خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 273
خطبات مسرور جلد پنجم 273 خطبہ جمعہ 29 جون 2007 ء اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔پھر فرمایا وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَاَخْرِجُوْهُمْ مِنْ حَيْثُ اَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ | وَلَا تُقتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقتِلُوكُمْ فِيهِ۔فَإِنْ قَتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمُ۔كَذلِكَ جَزَاءُ الكفِرِينَ۔(البقرة: 192) اور ( دوران قبال، جنگ کے دوران انہیں قتل کرو ، جہاں کہیں بھی تم انہیں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے تمہیں انہوں نے نکالا تھا اور فت قتل سے زیادہ سنگین ہوتا ہے اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتال نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے وہاں قتال کریں۔پس اگر وہ تم سے قتال کریں تو پھر تم ان کو قتل کرو، کافروں کی ایسی ہی جزا ہوتی ہے۔پھر فرمایا فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ (البقرة: (193) پس اگر وہ باز آجائیں تو یقینا اللہ تعالیٰ بہت مغفرت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پھر فرماتا ہے وَقتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ۔فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظـلـميـنَ (البقرة: 194) اور ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین ( اختیار کرنا ) اللہ کی خاطر ہو جائے۔پس اگر وہ باز آجائیں تو ( زیادتی کرنے والے ) ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی۔تو یہ ہے عدل وانصاف پر مبنی اسلام کی سلامتی کی تعلیم کہ جنگ کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ جنگ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہوا کوئی کام بھی ظلم پر مبنی نہیں ہوسکتا۔پس اللہ کی خاطر جنگ کا مطلب ہے کہ اُن لوگوں سے لڑو جو اللہ کی عبادت سے روکتے ہیں ، جو ظلم کرتے ہیں اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ، ظلم و تعدی میں حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔پس یہ لڑائی لڑنے کا اس کے علاوہ کوئی مقصد نہ ہو کہ یہ جو کچھ بھی کیا جارہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی کیا جا رہا ہے۔اگر کوئی جنگ ذاتی لالچوں ، حرصوں اور اپنی حکومت کا رسوخ بڑھانے کے لئے ہے تو ایسی جنگ اسلام میں قطعا منع ہے۔اور پھر فرمایا یہ جنگ اس وقت جائز ہے جب دشمن تم پر حملے میں پہل کرے۔پھر یہ بھی اجازت نہیں کہ جس قوم سے جنگ ہو رہی ہے اس کے ہر شخص سے تمہاری جنگ ہے بلکہ اگر اس طرح کرو گے تو زیادتی ہوگی اور زیادتی کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔تمہاری جنگ صرف فوجیوں سے ہونی چاہئے جو ہتھیار لے کر تمہارے سامنے آئیں۔پھر فرمایا کہ جنگ کو محدود رکھو۔یہ نہیں کہ دشمن کو سبق دینے کے لئے جنگ کے میدان وسیع کرتے چلے جاؤ۔پھر عبادتگاہوں کے قریب بھی جنگ سے بھی منع کیا ہے۔سوائے اس کے کہ دشمن مجبور کرے کجا یہ کہ ان عبادتگاہوں کو گرایا جائے۔اس لئے آنحضرت ﷺ اپنے لشکروں کو خاص طور پر ہمیشہ یہ ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ معبدوں اور گرجوں کی حفاظت کرنی ہے، ان کو نہیں گرانا ، ان کو نقصان نہیں پہنچانا۔اور مسجد حرام کے اردگر دتو جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔