خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 263
خطبات مسرور جلد پنجم 263 خطبہ جمعہ 22 جون 2007 ء پس آج مسلمان کا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کا پر چار کرے۔باقی رہا یہ کہ جو اسلام پر استہزاء کرنے سے باز نہیں آتے ان سے کس طرح نپٹا جائے۔اس بارہ میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ ایسے لوگوں کی بد قسمتی نے ان کے فعل ان کو خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھی باتیں کر رہے ہیں اور ان لوگوں نے آخر پھر اس زندگی کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور جب وہ خدا تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو خدا تعالیٰ انہیں آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔پھر ان سے وہ سلوک کرے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارِ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبِ نِ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللهِ إِلَهَا آخَرَ فَالْقِيهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ ( ق : 25 تا 27) یعنی اے نگرانو! اور اے گرو ہو! تم دونوں سخت ناشکری کرنے والے اور حق کے سخت معاند کو جہنم میں جھونک دو۔ہر اچھی بات سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور شک میں مبتلا کرنے والے کو۔وہ جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود بنا رکھا تھا۔پس تم دونوں اسے سخت عذاب میں جھونک دو۔تو یہ اللہ تعالیٰ ان دار وغوں کو فرمائے گا۔اگلے جہان میں ان سے یہ سلوک فرمائے گا۔جس کام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اس بارے میں ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔آج کل رشدی کے بارے میں بڑا شور ہے۔اس قسم کے جو لا مذہب ہوتے ہیں ان کا بھی کوئی نہ کوئی معبود ہوتا ہے۔یاد نیا کی تنظیمیں یا دنیا کے کوئی بڑے آدمی ، یا دنیا کی حکومتوں کو انہوں نے اپنا معبود بنایا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے انتظام کیا ہوا ہے۔ہمارے توڑ پھوڑ کرنے یا یہ کہنے سے کہ خود کش حملے جائز ہیں اور یہ رد عمل ہونا چاہئے۔اس طرح کی باتیں کرنے سے اسلامی اخلاق کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش ہوگی اور اس غلط تصویر پیش کرنے کے علاوہ ہم کچھ نہیں حاصل کر رہے ہوتے۔یا توڑ پھوڑ سے اپنا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔جو بکو اس اس نے اسلام کے خلاف یا آنحضرت ﷺ کے خلاف کی ہے بلکہ فرشتوں اور خدا کے خلاف بھی تھی۔تو وہ سالوں پہلے کی ہے۔اس کی فطرت ہے کرتا چلا جا رہا ہے۔اب اگر اس کی حرکتوں پر یا جس وجہ سے بھی کوئی حکومت مسلمانوں کے جذبات کا خیال نہ رکھتے ہوئے اُسے کوئی بھی ایوارڈ دیتی ہے یا خطاب دیتی ہے تو ان سب کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خود ان سے پیٹوں گا۔دوسرے یہ کہ یہ نہیں ہے کہ یورپ میں بالکل ہی شرافت نہیں رہی اور یہاں یورپ میں مغرب میں شرفاء نہیں رہے۔بے شمار لوگوں نے یہاں بھی ، انگلستان میں بھی اس پر اعتراض کیا ہے۔ممبرز آف پارلیمنٹ نے بھی اعتراض کیا ہے کہ اس حرکت کا ( جو یہ نائٹ ھڈ کا خطاب دیا گیا ہے ) اس کا سوائے دنیا کے سلامتی و امن بر باد کرنے کے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کوئی مقصد اس سے حاصل نہیں ہو گا۔اسی طرح جب اس نے آج سے دس بارہ سال پہلے یہ کتاب لکھی تھی بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس سے یہ کتاب لکھوائی گئی تھی کیونکہ