خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 262

262 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (انعام: 109) اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کوگالیاں دیں گے۔اسی طرح ہم نے ہر قوم کو ان کے کام خوبصورت بنا کر دکھائے ہیں۔پھر اُن کے رب کی طرف اُن کو لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ (سورۃ الانعام جزو نمبر (7) یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیونکہ وہ اس خدا کو جانتے نہیں۔اب دیکھو کہ باوجود یکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بُت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بد گوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جاؤ“۔پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 460-461) تو یہ ہے معاشرے میں، دنیا میں امن و سلامتی قائم رکھنے کے لئے اسلام کا حکم۔ہر گند کا جواب گند سے دینا اپنے او پر گند ڈالنے والی بات ہے۔مخالف اگر کوئی بات کہتا ہے اور تم جواب میں اُن کو اُن کے بتوں کے حوالے سے جواب دیتے ہو تو وہ جواب میں خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں۔یہ انتہائی مثال دے کر مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ جب بھی بات کرو تمہارے کلام میں حکمت کا پہلو ہونا چاہئے۔یہ بھی نہیں کہ بزدلی دکھاؤ اور مداہنت کا اظہار کرو۔لیکن مَوْعِظَةُ الْحَسَنَة کو ہمیشہ پیش نظر رکھو۔اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھو۔تو جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک انتہائی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سمجھا دیا کہ تمہارے غلط رو عمل سے غیر مسلم خدا تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور ایک مسلمان کو خدا کی غیرت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔پھر تمہیں تکلیف ہوگی اور اپنے غلط الفاظ کے استعمال کی وجہ سے خدا کو گالیاں نکلوانے کے پھر تم ذمہ دار ہو گے۔اسی طرح دوسروں کے بزرگوں کو، بڑوں کو، لیڈروں کو جب تم برا بھلا کہو گے تو وہ بھی اس طرح بڑھ سکتے ہیں۔اسی لئے حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے باپوں کو گالیاں مت دو۔تو کسی نے سوال کیا کہ ماں باپ کو کون گالیاں نکالتا ہے۔آپ نے فرمایا جب تم کسی کے باپ کو برا بھلا کہو گے تو وہ تمہارے باپ کو گالی نکالے گا اور یہ اسی طرح ہے جس طرح تم نے خود اپنے باپ کو گالی نکالی۔تو یہ سلامتی پھیلانے کے لئے اسلامی تعلیم ہے کہ شرک جو خدا تعالیٰ کو انتہائی ناپسندیدہ ہے جس کی سزا بھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں معاف نہیں کروں گا ان شرک کرنے والوں کے متعلق بھی فرمایا کہ ان سے اخلاق کے دائرہ میں رہ کر بات کرو۔تمہارے لئے یہی حکم ہے کہ تمہارے اخلاق ایسے ہونے چاہئیں جو ایک مسلمان کی صحیح تصویر پیش کرتے ہیں۔