خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 261
خطبات مسرور جلد پنجم 261 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء جنگ کی مجبوری بھی تھی۔وہ تفصیل تو یہاں بیان نہیں ہو سکتی ) جنہوں نے تمہارے خلاف تلوار نہیں اٹھائی تو نہ صرف یہ کہ ان سے کسی قسم کی سختی نہیں کرنی بلکہ ان سے نیکی کرو، ان پر احسان کرو، ان کے معاملات میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کرو۔چاہے وہ عیسائی ہے یا یہودی ہے یا کوئی بھی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”بے شک ان پر احسان کرو، ان سے ہمدردی کر و انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے۔(نورالقرآن۔روحانی خزائن جلد 9 نمبر 2 صفحہ 435) یہ قرآن کریم کے اس حکم کے تحت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يَنْهَكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمُ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنه: 9) اللہ تمہیں اس سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم ان سے نیکی کرو اور ان کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔تو اس میں اس حکم کی طرف ہی اشارہ ہے جو دوسری جگہ ہے کہ اگر فساد کوروکنے کے لئے تمہیں تلوار اٹھانی پڑے تو اٹھا سکتے ہو۔ایسے لوگ جو فتنہ اور فساد پیدا کرنے والے ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف تلوار اٹھائی ہے ان کے خلاف ایک قوم اور حکومت کی حیثیت سے اعلان جنگ کر سکتے ہو۔لیکن اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا۔جو تمہارے سے ٹکر نہیں لے رہا، جو تمہیں تنگ نہیں کر رہا، جو تمہارے سے جنگ نہیں کر رہا، جو تمہیں ختم کرنے کے درپے نہیں ہے، تو تمہارا یہ فرض بنتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان سے نیکی کر و حسن سلوک سے پیش آؤ۔اور یہی بات ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کا محبوب بنائے گی۔اعلان جنگ ہے یا اعلان بیزاری صرف اُن کے ساتھ ہے جن کا دنیا میں فساد کے علاوہ کوئی کام نہیں۔پس ایسے لوگوں سے دوستی رکھنے اور محبت بڑھانے کی اللہ تعالیٰ اجازت نہیں دیتا۔لیکن جو امن میں رہ رہے ہیں ان کو بلا وجہ ان کا امن برباد کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔یہاں بھی واضح ہونا چاہئے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق اعلان جنگ کرنا یا رد عمل کا اظہار کرنا حکومتوں کا کام ہے۔ہر شخص جو چھوٹے بڑے گروپ کا ہے اگر اس طرح کرنے لگے تو اپنے ملک میں اپنی حکومتوں کے اندر ایک فساد کی صورت پیدا ہو جائے گی۔اور بدقسمتی سے یہی چیز ہے جو آج کل مختلف ملکوں میں مسلمانوں میں جو شدت پسند بنے ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہورہی ہے۔اپنے ملکوں میں فساد پیدا کیا ہوا ہے جس سے اسلام اور مسلمان بدنام ہورہے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے جو بین الاقوامی سلامتی اور بین المذاہب تعلقات کے لئے بڑا اہم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ