خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 260
260 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اعلیٰ ہونا، کمز ورلوگوں پر اس کے حکومت کرنے سے ہے۔دنیا کی نظر میں تو ان دنیا وی طاقتوں اور حکومتوں کا مقام ہوگا لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں نہیں۔اور جو چیز خدا تعالیٰ کی نظر میں قابل قبول نہ ہو وہ بظاہر ان نیک مقاصد کے حصول میں ہی کامیاب نہیں ہو سکتی جس کے لئے وہ استعمال کی جارہی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ تمام انسان جو ہیں ایک خاندان ہیں اور جب ایک خاندان بن کر رہیں گے تو پھر اس طرح ایک دوسرے کی سلامتی کا بھی خیال رکھیں گے جس طرح ایک خاندان کے افراد ، ایسے خاندان کے افراد جن میں آپس میں پیارو محبت ہو وہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قبیلوں اور قوموں کا صرف یہ تصور دیا ہے کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔یہ پاکستانی ہے، یہ انگریز ہے، یہ جرمن ہے، یہ افریقن ہے۔ورنہ بحیثیت انسان تم انسان ہو۔اور جو امیر کے جذبات ہیں ، وہی غریب کے جذبات ہیں۔جو یورپین کے جذبات ہیں ، وہی افریقن کے جذبات ہیں۔جو مشرق کے رہنے والوں کے جذبات ہیں وہی مغرب کے رہنے والوں کے جذبات ہیں۔پس ایک دسرے کے جذبات کا خیال رکھو۔اگر جذبات کا خیال رکھو گے تو سلامتی میں رہو گے۔پس ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیت رکھی ہیں، ہر قوم کی اپنی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں ، ان سے فائدہ اٹھاؤ تا کہ دائمی پیار و محبت کو قائم رکھ سکو۔پس اسلام کے نزدیک پائیدار سلامتی کے لئے یہی معیار ہے ورنہ جیسا کہ میں نے کہا جتنی بھی سلامتی کونسلیں بن جائیں، جتنی بھی تنظیمیں بن جائیں وہ کبھی بھی پائیدار امن وسلامتی قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔اور یہ قرآنی تعلیم پہلے صرف تعلیم کی حد تک ہی نہیں رہی بلکہ آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں اس پر عمل کیا۔غریبوں سے لاڈ کیا، غلاموں سے پیار کیا، محروموں کو ان کے حق دلوائے ، ان کو معاشرے میں مقام دلوایا۔حضرت بلال جو ایک افریقن غلام تھے وہ آزاد کر وا دیئے گئے تھے۔لیکن اس وقت کوئی قومی حیثیت ان کی معاشرے میں نہیں تھی۔لیکن آنحضرت ﷺ کے سلوک نے ان کو وہ مقام عطا فرمایا کہ حضرت عمر نے بھی ان کو سیدنا بلال کے نام سے پکارا۔پس یہ ہیں سلامتی کے معیار قائم کرنے کے طریق۔پھر حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے کھول کر بیان فرما دیا کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اس لئے نہ عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت ہے نہ عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت ہے۔اسی طرح رنگ نسل بھی تمہاری بڑائی کا ذریعہ نہیں ہیں۔پس یہ خوبصورت معاشرہ تھا جو آنحضرت ﷺ نے پیدا کیا اور یہی معاشرہ ہے جو آج مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت نے آنحضرت ﷺ کے حکم کے تحت قائم کرنا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے بین الاقوامی سلامتی کے لئے حکم دیا ہے جو کہ ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے بھی کافی ہے ان کے لئے تسلی بخش جواب ہونا چاہئے ) جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا اور تشدد کا حکم دیتا ہے۔بلکہ اس کے الٹ اللہ تعالیٰ تو یہ حکم دیتا ہے کہ جو تمہیں تنگ نہیں کر رہے، جو تم سے جنگ نہیں کر رہے ( بعض احکامات کے ماتحت