خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 249
خطبات مسرور جلد پنجم 249 خطبہ جمعہ 15 جون 2007ء جائے۔بلکہ زیادہ مستحسن یہ ہے کہ ایسے لوگ جن کا پیسہ پڑا رہتا ہے وہ اپنے پیسے کو رکھنے کی بجائے لوگوں کے ساتھ جن میں کاروباری صلاحیت ہو، کاروبار میں لگائیں۔بعض مسلمان ملکوں میں اب غیر سودی قرض کی سہولتیں دی جا رہی ہیں بلکہ یہاں بھی اسلامک بینکنگ (Islamic Banking) کے نام سے غیر سودی قرضے متعارف ہو رہے ہیں ( گوا بھی اس کی ابتدا ہی ہے ) اور ہمارے احمدی، احمد سلام صاحب، جو ڈاکٹر سلام صاحب کے بیٹے ہیں، انہوں نے بلاسودی بینکاری پر کافی کام کیا ہے۔تو ان مغربی ممالک میں بھی ایسے احمدی جن میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بنک کی شرائط پوری کرتے ہیں اور کاروبار بھی کرنا جانتے ہوں یا ان کے کچھ کاروبار ہوں تو انہیں اپنے کاروبار اس طرح کے قرض لے کر بنانے اور بڑھانے چاہئیں۔اس طرح جہاں وہ سود سے پاک کا روبار کریں گے وہاں اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو سمیٹنے والے بھی ہوں گے اور اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے والے بھی ہوں گے۔ان میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت بھی بڑھے گی۔اگر ایسا کاروبار ہو گا جس میں ملازمین رکھنے کی گنجائش ہے تو ملازمین رکھ کر چند بے روزگاروں کو روزگار بھی مہیا کر رہے ہوں گے۔یہاں اب اس طرف کافی توجہ پیدا ہو رہی ہے ، شاید یورپ اور اور جگہوں میں بھی ہو، اس لئے احمدیوں کو بھی اس طرف کوشش کرنی چاہئے۔بہر حال متعلقہ جماعتوں کو اپنے اپنے ملکوں میں معلومات اکٹھی کر کے جماعت کے افراد کو بھی معلومات دینی چاہئیں تا کہ اپنے بھائیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے والے بن سکیں اور بعض گھروں میں معاشی بدحالی کی وجہ سے جو بے چینی ہے اس کو دور کرنے والے بن سکیں۔میرے گزشتہ خطبے کے بعد بھی کئی لوگوں نے سود سے ڈر کر مجھے خط لکھے کہ ہم نے سود پر گھر لیا ہوا ہے یا فلاں چیز سود پر ہے، جائز ہے یا نہیں ؟ تو خدا تعالیٰ نے سود کو نا جائز قرار دیا ہے اور یہی فرمایا ہے کہ جب تمہیں نصیحت آ جائے تو اس پر عمل کرو اور ایک احمدی جو ہر وقت قرآن کریم پڑھتا ہے اس کو تو پتہ ہی ہے۔بہر حال لوگوں نے اب بعض سوال اٹھائے ہیں۔یہاں مکانوں کی مورگیج (Mortgage) ہے تو اس میں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کچھ مالی نظام ایسا ہے جس میں ایسا زیروزبر ہوا ہے کہ نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔اس لحاظ سے عموماً جماعت اس بات کی اجازت دیتی ہے، پہلے خلفاء بھی دیتے رہے کہ مور تیج پر مکان لے لیا جائے۔تو اس بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ اگر تو کم و بیش کرائے کی رقم کے برابر مکان کا مورگیج ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔کچھ عرصہ بعد پھر قیمت بڑھتی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں، جن کو فکر ہوتی ہے وہ اپنے مکان بیچ کر دوسرے علاقے میں لے لیتے ہیں اور بنک کی رقم سے فارغ ہو جاتے ہیں۔یہاں اس شرط کے ساتھ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ رہائش کا مکان ہو تو اس کے لئے اجازت ہے۔کاروبار کے لئے یہ اجازت نہیں ہے۔اس لئے جو وصیت کرنے والے ہیں ان