خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 248
خطبات مسرور جلد پنجم 248 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء بعض لوگ اپنا پیسہ، اپنی رقم معین منافع کی شرط کے ساتھ کسی کو دیتے ہیں کہ ہر ماہ یا چھ ماہ بعد یا سال بعد اتنا منافع مجھے ادا ہوگا۔تو یہ بھی سود کی ایک قسم ہے۔یہ تجارت نہیں ہے بلکہ تجارت کے نام پر دھوکہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سود کی جو تعریف فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔ایک اور جگہ فرمایا یا کسی کو رقم دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے، تو فائدہ مقرر کرنا یا منافع مقرر کرنا سود کی شکل ہے۔آپ نے فرمایا ” یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلا دے گا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 160 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اس تعریف کے لحاظ سے منافع رکھ کر یعنی پہلے سے منافع معین کر کے کسی کو قرض دینا یا رقم دینا یا تجارت میں لگانا، یہ سب چیزیں سود ہیں۔نفع نقصان پہ جو آپ لگاتے ہیں جو اسلام کا حکم ہے وہ ٹھیک ہے، وہ جائز ہے، وہ تجارت ہے۔تو ایسے لوگ جو تجارت اور سود کو ایک ہی طرح سمجھتے ہیں ، قرآن نے ان کو سخت غلطی خوردہ بتایا ہے اور ایسے لوگوں کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ الَّذِيْنَ يَأكُلُونَ الرّبوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسِ۔ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبوا وَاَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرّبوا۔فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَاسَلَفَ۔وَاَمْرُةٌ إِلَى اللَّهِ۔وَمَنْ عَادَ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمُ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة : 276) کہ وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوتے مگر ایسے جیسے وہ شخص کھڑا ہو جسے شیطان نے اپنے مس سے حواس باختہ کر دیا ہو۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا یقیناً تجارت سود ہی کی طرح ہے جبکہ اللہ نے تجارت کو جائز اور سود کوحرام قرار دیا ہے۔پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آ جائے اور وہ باز آ جائے تو جو پہلے ہو چکا وہ اسی کا رہے گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے۔اور جو کوئی دوبارہ ایسا کرے تو یہی لوگ ہیں جو آگ والے ہیں۔وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔پس یہ نقشہ ہے سُود لینے والوں کا کہ مفت کی کمائی سے ان کے دل اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ دوسرے کے جذبات کا خیال نہیں رہتا۔اگر ایک غریب کسان یا مزدور اپنی فصل خراب ہونے کی وجہ سے یا گھر کے بعض غیر معمولی اخراجات ہونے کی وجہ سے قرض واپس نہیں کر سکا تو ایسے شخص کو اس غریب کا کوئی خیال نہیں ہوتا جس کا سود لینے پر دل سخت ہو چکا ہوتا ہے۔اس کو صرف اپنے پیسے سے غرض ہوتی ہے اور اگر نہیں ادا کر سکتے تو پھر اس رقم پر شو دور شود چلتا چلا جاتا ہے اور غریب پستا چلا جاتا ہے۔پس قرآن کریم میں مسلمانوں کے لئے یہ جو حکم ہے کہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ اسلام مواخات کے ذریعے سے، بھائی چارے کے ذریعہ سے امن اور سلامتی پھیلانا چاہتا ہے اور مواخات کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب غریب کا خیال رکھا جائے ، اس پر بلا وجہ کا بوجھ نہ ڈالا جائے ، بلکہ آسان شرائط پر اس کی ضرورت پوری کی