خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 247
خطبات مسرور جلد پنجم 247 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ۔(البقرة: 279-280) اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدنظر رکھے تا کہ سُودی قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سُو د اصل سے بڑھ جاتا ہے۔پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں۔مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ۔جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنی ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 434-435 جدید ایڈیشن) ہمارے ہاں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک بڑے طبقے میں غیر ضروری اخراجات کے لئے قرض لیا جاتا ہے، اس بات کی نشان دہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے۔مثلاً نکاح پر غیر ضروری خرچ ہے، شادی ولیمہ پر غیر ضروری خرچ ہے، جماعت کے ایک طبقے میں بھی دنیا دکھاوے کی وجہ سے غیر ضروری اخراجات ہوتے ہیں۔جماعت میں جو شادی کے لئے امداد دی جاتی ہے اور ایک Reasonable قسم کی رقم دی جاتی ہے کہ سادگی سے شادی ہو سکے۔مگر بعض لوگ اس طرح پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ ہمیں نکاح اور ولیمے کے لئے بھی اتنی اتنی رقم چاہئے۔اگر امداد نہیں مل سکتی تو قرض دے دیا جائے جبکہ جانتے ہیں کہ ان میں قرض واپس کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ، وقت مقررہ پر ادا نہیں کر سکتے۔پھر درخواستیں شروع ہو جاتی ہیں کہ اگر جماعت نہ دے تو ہم ادھر ادھر کہیں۔لیں گے اور جب لیتے ہیں تو پھر قرض کو اتارنے کے لئے مدد کی درخواستیں شروع ہو جاتی ہیں۔تو یہ ایک سلسلہ ہے جب قرض بلاضرورت لیا جاتا ہے تو اس کو یہ کہنا چاہئے کہ وہ ایک شیطانی چکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر گھروں کا سکون برباد ہوتا ہے۔قرضوں کے بعد جو حالت ہوتی ہے اس سے طبیعتوں میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔میاں بیوی بچوں کے تعلقات خراب ہورہے ہوتے ہیں۔گھروں میں ظلم ہورہے ہوتے ہیں تو ایک عارضی خوشی کی خاطر وہ اپنے آپ کو مشکلات میں گرفتار کر لیتے ہیں چاہے بغیر سود کے ہی قرض لے کر کر رہے ہوں لیکن سود کا قرض لینا تو بالکل ہی لعنت ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ سورکھانے کی تو بھوک کی حالت میں، اضطرار کی حالت میں جب انسان بھوک سے مر رہا ہو، اجازت ہے لیکن سود کی تو بالکل اجازت نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو سود پر قرض لینے والوں کو بھی اس زمرہ میں رکھا ہے جو خدا سے جنگ کرتے ہیں اور سود پر قرض دینے والا تو کھڑا ہی خدا کے حکم کے خلاف ہے۔