خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 241

خطبات مسرور جلد پنجم 241 خطبہ جمعہ 8 جون 2007ء ممنون احسان ہو گا کہ اس نے اس کی ضروریات کا خیال رکھا اور یہ وہ صحیح معاشرہ ہوگا جو اسلامی نمونہ پیش کرتا ہو گا۔جس میں ایک دوسرے کے لئے دعاؤں اور سلامتی کے نظارے نظر آئیں گے۔یادرکھیں آج احمدی ہی ہے جو اس معاشرے کی صحیح تصویر پیش کر سکتا ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ عہد باندھا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کروں گا ، ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ورنہ دنیا میں جو نفسا نفسی ہے اور جن ذاتی منفعتوں کی وجہ سے ترجیحات بدل رہی ہیں یا جن ترجیحات کی طرف دنیا چل پڑی ہے ان سے یا اُس سوچ سے اس معاشرے کے امن اور سلامتی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بچے نیکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خدا کی رضا جوئی کے لئے اپنے قریبیوں کو اپنے مال سے مدد کرتے ہیں اور نیز اس مال میں سے قیموں کے تعہد اور ان کی پرورش اور تعلیم وغیرہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں یعنی ان کو پالتے پوستے ہیں ” اور مسکینوں کو فقر وفاقہ سے بچاتے ہیں۔اور مسافروں اور سوالیوں کی خدمت کرتے ہیں“۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 357) تو یہ ہے ایک نمونہ جو مومنین کے معاشرے کا نظر آنا چاہئے۔پھر دوسری آیت میں جو میں نے پڑھی تھی اس میں سے کچھ ذکر تو ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس میں انتہائی اہم معاشی مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہمیشہ سے معاشرے میں فساد کی جڑ رہا ہے اور آج بھی بظاہر بہتر معیشت کے لئے ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ہر شخص کو اور دنیا کے جو غریب ممالک ہیں ان کو ہمیشہ کے لئے قرضوں کے شکنجوں میں جکڑتا چلا جا رہا ہے لیکن غیر محسوس طریقے سے۔اور وہ چیز جیسا کہ اس آیت کے ترجمہ میں بتایا تھا سو د ہے۔خدا تعالیٰ نے سُود کی بڑی شدت سے مناہی کی ہے کیونکہ یہ غریب کو ہمیشہ کے لئے غربت کی دلدل میں دھنسا تا چلا جاتا ہے۔اس آیت میں جس میں سود کا ذکر کیا گیا ہے اس سے پہلی آیت کے ساتھ موازنہ بھی مل جاتا ہے کہ سود تمہیں کیا دیتا ہے اور غریبوں کے حق کے طور پر ان کی زکوۃ اور صدقات اور تحفوں سے جو مدد کرتے ہو اس سے تمہیں کیا ملتا ہے۔پہلی بات تو یا درکھو کہ جو خرچ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یقینی طور پر اس میں تمہاری کامیابی ہے جس کے نظارے اس دنیا میں بھی دیکھو گے اور اگلے جہان میں بھی اور سب سے بڑی کامیابی تو یہی ہے کہ اللہ راضی ہو گیا۔دوسری کامیابی ، پر امن اور سلامتی سے پر معاشرے کا قیام ہو گا۔پھر مرنے کے بعد اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے دائمی جنتوں کے وارث بنو گے جہاں تمہیں ہمیشہ سلام اور سلام کے تحفے ملیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے جوسود کے کاروبار میں ملوث ہوں وہ کیا