خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 228
228 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم کے نام پر ہڑتالوں، فسادوں اور بعض دفعہ خود کش حملوں کے لئے تیار ہو رہی ہوتی ہے۔جہاد کے نام پر ، جہاد کے غلط تصور سے ان کی برین واشنگ (Brain Washing) کی جارہی ہوتی ہے۔اگر ایسے بہت سے قیموں کو غریب لوگوں کو سنبھالا گیا ہوتا ، ان کے معاشی مسائل نہ ہوتے ، پڑھنے کے مواقع میسر ہوتے تو بڑی تعداد اس قسم کے فتنے اور فساد کے کاموں سے بچ جاتی۔ایک دفعہ میں بھیرہ کے علاقے میں گیا، بھیرہ سے نکل کر ہم دیہاتوں میں شکار کے لئے گئے تھے تو کچھ لڑ کے وہاں آگئے اور وہ مدرسے کے لڑکے تھے۔ان سے باتیں شروع ہو گئیں۔میں نے پوچھا کیا کچھ پڑھتے ہو، کیا کچھ کرتے ہو؟ تو انہوں نے پڑھائی کی باتیں کم بتائیں، یہ بتایا کہ ہم یہاں ہینڈ گرنیڈ بھی بناتے ہیں، ہم یہاں اپنے کارتوس بھی بھرتے ہیں بلکہ بندوقیں بنانے کی ہمیں ٹریننگ دی جاتی ہے۔تو یہ حال ہے۔ماں باپ ان کو دینی تربیت کے لئے بھیجتے ہیں اور وہاں جا کر ان غریب بچوں کو جو تربیت دی جارہی ہوتی ہے وہ ایسی کہ بعد میں ان کو جہاد کے نام پر غلط طور پر شدت پسندی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، فساد پھیلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ماں باپ بیچارے اس امید پر بیٹھے ہیں کہ کم از کم دینی علم حاصل ہو جائے گا، ہمارا بچہ بچ جائے گا لیکن یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کن ہاتھوں میں ہے جو اپنے مفاد کے لئے ان بچوں سے مذہب کے نام پر خون کروانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔پس اس فساد سے بچنے کے لئے یہ معاشرے کا کام ہے اور وقت کی حکومت کا کام ہے کہ ایسے طبقے کو سنبھالیں ، انہیں دھت کار نے کی بجائے انہیں سینہ سے لگا ئیں۔ان کو جذباتی چوٹیں پہنچانے کی بجائے زیادہ بڑھ کر ان کے جذبات کا خیال رکھیں۔کیونکہ یہ کمزور طبقہ جذباتی طور پر بہت حساس ہوتا ہے۔معاشرے کو اس کے جذبات کو تعمیری رخ دینے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بات اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ان سے انتہائی احسان کا سلوک نہ کیا جائے اور یہ بات جہاں معاشرے میں محروم طبقے کو عزت دلوانے والی ہوگی وہاں معاشرے کے امن اور سلامتی کی بھی ضامن ہو جائے گی اور پھر یتیموں کی خبر گیری کرنے والے مسکینوں کا خیال رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے پیار کے بھی مورد بنتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی دیکھ بھال کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جس طرح دو انگلیاں (اپنی دو انگلیاں کھڑی کر کے ملا کر بتایا کہ اس طرح) یعنی ایسا شخص میرے قریب ہوگا۔(ابن ماجه ابواب الادب با ب حق اليتيم پھر ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کی پرورش کی جائے۔(ابن ماجه ابواب الادب۔با ب حق اليتيم حديث نمبر (3680 ایک روایت میں آتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ انسان کی بدبختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو