خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 221
خطبات مسرور جلد پنجم 221 خطبہ جمعہ 25 رمئی 2007 ء پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ایم ٹی اے 3 کا چینل شروع کیا گیا جو عربی پروگراموں کا چینل ہے اور یہ 24 گھنٹے عربی میں پروگرام دے رہا ہے۔اس میں بھی مختلف پروگرام ہیں۔اس پر وہاں کے جو عیسائی پادری اور علماء ہیں، وہ گھبرا گئے اور ان میں سے ایک نے وہاں مصر میں جو متعلقہ وزارت ہے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ احمدیوں کو کیونکر اجازت دی گئی ہے۔حالانکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے کسی وزارت سے اجازت نہ لی ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔دوسرے ہمارا معاہدہ تو سیٹلائیٹ کمپنی سے ہے اور کمرشل کمپنیوں سے معاہدہ ہوتے ہیں کسی سیٹیلائٹ کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔بہر حال ان لوگوں کے دعوے کی قلعی کھل گئی جو اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور عیسائیت تبلیغ کے ذریعہ سے اور عقل سے اور دلائل سے پھیلی ہے۔تو یہ بھی جو بات ہے اس جری اللہ کے حق میں ہے، اللہ تعالیٰ کی تائیدات کی ایک دلیل ہے کہ جو الزام یہ لوگ اسلام پر لگاتے تھے جو کہ حقیقت میں الزام تھا کیونکہ اسلام میں سوائے سلامتی کے کچھ ہے ہی نہیں تو اللہ کے اس پہلوان کی دلیلوں سے مجبور ہو کر جبر کا ہتھیار اب انہوں نے خود اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے اور مقدمہ بازی کر رہے ہیں ، شور شرابے کر رہے ہیں۔پس جہاں ہمیں خوشی ہے کہ اس مقدمے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا ایک اور ثبوت ہمیں مہیا کر دیا ہے، وہاں دعا کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے بچائے ، ہر شر سے جماعت کو بچائے۔ان لوگوں کو بچائے جو اس پروگرام میں شامل ہیں اور ان کا کوئی حربہ بھی کبھی کارگر نہ ہو اور انشاء اللہ یہ یقینا نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ سب انتظام کسی انسان کی کوشش سے نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدے تھے ان کے پورا ہونے کے نتیجہ میں ہوا ہے۔یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ جہاں ہمارے سے اختلاف رکھنے والے بعض علماء نے ہمارے خلاف اُس وقت پہلے لکھا تھا انہوں نے غیرت دکھائی ہے اور وہاں بعض عرب ممالک کے اخباروں میں عیسائیوں کو مسلمان علماء نے مخاطب کر کے لکھا ہے کہ تمہارے منہ میں جو آئے تم بک رہے تھے اور اسلام پر بے تکے اعتراضات کئے چلے جاتے تھے جبکہ اسلام کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں تھا۔آج جب شریفانہ طور پر تمہیں جواب دیا جارہا ہے تو تم چیخ پڑے ہو۔تو اللہ تعالی ان غیر از جماعت غیرت رکھنے والے لوگوں کو جزا دے جنہوں نے اسلام کے لئے غیرت دکھائی ہے ، آنحضرت ﷺ کے لئے غیرت دکھائی ہے۔بہر حال جماعت کو دعا کرنی چاہئے کہ آج کل مختلف جگہوں پر احمدیت کے خلاف جو مخالفت کی آگ بھڑک رہی ہے دنیا میں تقریباً ہر جگہ اسی طرح ہی ہو رہا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق خود ٹھنڈا کرے اور ہمارے لئے سلامتی اور امن بنادے۔جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان بھی کیا یا عیسائی بھی کیا ، ان کی طرف سے جماعت کے خلاف جیسا کہ میں نے کہا مخالفت کی فضا پیدا ہوئی ہے تو لگتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ