خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 218
خطبات مسرور جلد پنجم 218 خطبہ جمعہ 25 مئی 2007 ء پھر ایک روایت میں آتا ہے ، حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سلام کو پھیلاؤ۔اس سے تم سلامتی میں آ جاؤ گے، تمہارے گھر بار اور معاشرہ سب سلامتی میں آ جائے گا۔(الترغيب والترهيب جزء 3 الترغيب فى افشاء السلام وماجاء في فضله۔۔۔۔۔۔حديث نمبر 3979 صفحه 372 پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سلام کو پھیلاؤ تا کہ تم غلبہ پا جاؤ۔(الترغيب والترهيب جزء 3 الترغيب فى افشاء السلام وماجاء في فضله۔۔۔۔۔۔حديث نمبر (3984 صفحه 373 پس سلام کو پھیلانے سے آپس کے محبت کے تعلقات ہوں گے اور یہ محبت کے تعلقات ایک جماعتی قوت پیدا کریں گے اور یہ جماعتی قوت اور مضبوطی ہی ہے جس سے پھر غلبہ کے سامان پیدا ہوں گے۔ورنہ اگر آپس کی پھوٹ رہی ،سلامتی نہ رہی، اس کے پھیلانے کی کوشش نہ کی تو ایک طرف تو آپس کی ایک جماعت کی طاقت جاتی رہے گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (الانفال: 47) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہا کرو، آپس میں اختلاف نہ کیا کرو۔ایسا کرو گے تو دل چھوڑ بیٹھو گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی۔اور صبر کرتے رہو، اللہ یقیناً صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : "اسلامی فرقوں میں دن بدن پھوٹ پڑتی جاتی ہے۔پھوٹ اسلام کے لئے سخت مضر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ - جب سے اسلام کے اندر پھوٹ پڑی ہے دم بدم تنزل کرتا جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس سلسلے کو قائم کیا تا لوگ فرقہ بندیوں سے نکل کر اس جماعت میں شامل ہوں جو بیہودہ مخالفتوں سے بالکل محفوظ ہے اور اس سیدھے راستے پر چل رہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے بتایا‘۔( بدر جلد 7 نمبر 19-20 مورخہ 24 مئی 1908 صفحہ 4 پس ہر احمدی کو غور کرنا چاہئے ، یہ الفاظ ہمیں اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں۔اپنے گھروں میں بھی ، اپنے آپس کے تعلقات میں بھی ہمیں زیادہ سے زیادہ محبت و پیار اور سلامتی کے پیغام کو پہنچانے والا بننا چاہئے۔اس طرح معاشرے میں ، ماحول میں، اس سلامتی کے رواج سے پھر احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی بھی توفیق ملے گی۔جب آج کل کے معاشرے کی فضولیات میں ایک طبقہ کی منفرد حیثیت نظر آ رہی ہوگی جو سلامتی اور محبت کی پیامبر ہے تو تبلیغی میدان میں بھی وسعت پیدا ہوگی اور اس زمانہ میں یہ دعا اور محبت اور سلامتی ہی ہے جس نے اسلام اور احمد بیت کو انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ عطا کرنا ہے۔