خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 207

خطبات مسرور جلد پنجم 207 خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء دوسرے تک پہنچانے والا بھی ہے۔اور اس زمانے میں یہ فیض صرف احمدی کو حاصل ہے، صرف احمدی اس فیض سے فائدہ اٹھارہا ہے۔یہ اعزاز صرف احمدی کو حاصل ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے کہ اسلام کے محبت و پیار کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔پھر نیک اعمال بجالانے میں سب سے اہم کام رشتہ داروں سے حسن سلوک ہے جس سے سلامتی کا پیغام ہر طرف پھیلے گا۔ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ہے۔اس طرف توجہ ہوگی تو معاشرے میں امن قائم ہوگا۔یہ حقوق کی ادا ئیگی جس طرح اپنے بھائی کے لئے ہے اسی طرح غیر کے لئے بھی ہے۔پھر نیک اعمال میں غرباء کی دیکھ بھال ہے۔یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس سے ہر طرف سلامتی کا پیغام پہنچتا ہے۔پھر نیک اعمال میں امانت کا حق ادا کرنا ہے۔اپنے وعدوں کا پورا کرنا ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جو معاشرے میں سلامتی بکھیر نے والا ہے۔ان باتوں کے قرآن شریف میں ذکر آئے ہوئے ہیں۔آج معاشرے کے اکثر فساد اس لئے ہیں کہ امانت کی ادائیگی صحیح طرح نہیں کی جاتی اور عہدوں کا پاس نہیں کیا جاتا۔صرف اپنے حقوق کا خیال نہیں ہونا چاہئے بلکہ دوسروں کے حقوق کا خیال بھی ہونا چاہئے۔جب یہ صورتحال پیدا ہوگی تو امن اور سلامتی معاشرے میں قائم ہوگی۔پھر یہ ہے کہ صرف حقوق کا خیال نہیں کرنا بلکہ دوسرے کا حق نہ ہونے کے باوجود احسان کرتے ہوئے، قربانی کر کے دوسرے کی ضروریات کا بھی خیال رکھنا اور پھر یقیناً معاشرے میں امن اور سلامتی اور پیار پھیلانا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی مدد کے وقت اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے اس کی تکلیف دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی تکالیف میں سے تکلیف دور کر دے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے روز پردہ پوشی فرمائے گا۔(بخارى كتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه حديث نمبر (2442 پھر نیک اعمال میں سے حسن ظن ہے۔اکثر جھگڑے معاشرے میں بدظنیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔معاشرے کا امن غارت ہورہا ہوتا ہے اس لئے کہ کسی بات کے خود ساختہ غیر حقیقی نتائج نکال لئے جاتے ہیں اور پھر اس پر فساد شروع ہو جاتا ہے۔کئی معاملے آتے ہیں بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ دو بھائیوں میں اس وجہ سے تعلقات خراب ہو گئے کہ ایک کو یہ شک پڑ گیا کہ یہ میرا مال کھا گیا ہے۔دوسرے ملک میں ہونے کی وجہ سے یا بعض وجوہات کی وجہ سے کسی مشتر کہ جائیداد میں جو فروخت نہیں ہوئی، یہ شک ہو گیا کہ وہ فروخت کر کے کھا گیا ہے اور دوسرا بھائی چاہے لاکھ کہے کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے، ابھی تو جائیداد اسی طرح پڑی ہے، فروخت نہیں ہوئی لیکن کیونکہ بانی نے دل میں جگہ لے لی ہے اس لئے ماننے کا سوال ہی نہیں ہوتا تو یہ بدظنی پھر بھائی کو بھائی سے پھاڑتی ہے اور جہاں ایک دوسرے پر سلام کا تحفہ بھیجنے کا حکم ہے وہاں ناراضگیوں کے اور غلط قسم کی باتوں کے اور جذبات کو مجروح کرنے کے لئے تیر چلائے جاتے ہیں۔تو ایک احمدی مسلمان کو اس سے بچنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہئے اور حسن ظن رکھنا چاہئے۔میاں بیوی کے