خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 206

خطبات مسرور جلد پنجم 206 خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء نگاہ میں قبول ہوا۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر کیا تھا اس لئے قبول ہوا اور اس صبر کی وجہ سے ان کی دوسری نیکیاں بھی اُجاگر ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کے تمام دروازے کھول دیئے۔پس جو صبر کسی غیر اللہ کے خوف اور ڈر کی وجہ سے نہ ہو؟ جو خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہو وہ اللہ کی جناب میں قبول کیا جاتا ہے اور بندے کو اس کا اجر ملتا ہے۔اور یہ سلام جو اللہ کے بندوں کو پہنچایا جارہا ہے یہ ہمیشہ کی سلامتی کا پیغام ہے اور جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اللہ کی راہ میں اپنا وجو د سونپ دینے کی وجہ سے ہے۔پس اگر مخالفین احمدیت کو یہ زعم ہے کہ ڈرا دھمکا کر کسی احمدی کو اس کے دین سے برگشتہ کر سکتے ہیں ، اس کو احمدیت چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔چاہے وہ سری لنکا کے گورنر علوی صاحب ہوں یا پاکستان کے مُلاں ہوں یا بنگلہ دیش کے نام نہاد علماء ہوں جن کا دین صرف فساد اور فساد ہے نہ کہ رحمت اور سلامتی۔یا انڈونیشیا کے شدت پسند ہوں جنہوں نے اسلام کے نام پر مسلمانوں کو، اُن مسلمانوں کو جو اللہ تعالیٰ کے احکامات بجالانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، تکلیفوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ہم انشاء اللہ تعالیٰ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے، نہ احمدی کبھی قانون ہاتھ میں لیتا ہے لیکن جہاں احمدی کو یہ خوشخبری ہے کہ اگلے جہان میں اس کو صبر کی جزا ملے گی، اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سلامتی کے فیض پہنچا تا رہے گا ، اور پہنچا رہا ہے اور احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قرآنی احکامات کے تابع نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی ہیں ان جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ہر آن مومنوں پر سلامتی فرماتا رہے گا۔فرماتا ہے وَادْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ خَلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمُ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَمٌ۔(ابراهیم: 24) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ایسے باغات میں داخل کئے جائیں گے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں وہ اپنے رب کے حکم کے ساتھ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ان کا تحفہ ان جنتوں میں سلام ہوگا۔یہ نیک اعمال کیا ہیں جن کی وجہ سے ہمیں جنتیں ملیں گی اور اس کے بعد ہمیں سلامتی کا تحفہ ملے گا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بندے کو پیدا کیا ہے۔اس کے دین کی سر بلندی کے لئے کوشش ہے۔دین کی خاطر مالی اور جانی قربانی کرنے کی کوشش ہے۔اس کے دین کو پھیلانے کے لئے تبلیغ میں حصہ لیتا ہے۔دعوت الی اللہ کرنا ہے۔دنیا کو خدائے واحد کی حقیقی تصویر دکھانا ہے۔نیکیوں کی تلقین کرنا ہے جس میں بہت سارے حقوق العباد آ جاتے ہیں جس کے بارے میں فرمایا کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران : 111) یعنی مومن نیکی کی ہدایت کرنے والے ہیں اور برائی سے روکنے والے ہیں۔پس جہاں ایک مومن کو اپنے میں سے برائیاں ختم کرنے والا اور نیکیاں اختیار کرنے والا ہونا ہے وہاں ایک مومن سلامتی کے پیغام کو