خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 205
خطبات مسرور جلد پنجم 205 خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء لئے بچتے ہیں کہ یہ اللہ اور رسول کا حکم نہیں ہے۔ہم کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں بچتے۔اس لئے نہیں کہ ہم اس کا جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس لئے کہ قانون کو ہاتھ میں لے کر تمہارے جیسی حرکات کر کے ہم بھی بدامنی پھیلانے والے نہیں بن سکتے۔ان لوگوں میں شامل نہیں ہو سکتے جو تمہاری تماش کے لوگ ہیں اور ان لغویات میں ملوث ہونا نہیں چاہتے جن میں تم ہو۔تم جاہل ہو اس لئے کہ تم نے باوجود آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے کے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا۔جب ہم نے اس امام کو مانا ہے اور قرآن کریم کے حکم کے تحت زمانے کے امام نے جو ہمیں توجہ دلائی ہے تو ہم اب اس پر عمل کرنے والے ہیں۔آج کل سری لنکا میں بھی بڑی شدت سے احمدیت کی جو مخالفت ہو رہی ہے۔اور فسادیوں کا جو ایک گروہ مُلاں کے پیچھے چل کرحرکتیں کر رہا ہے یہ تمہارے زعم میں تو اسلام کی خدمت ہو سکتی ہے لیکن یہ تمہارا صرف زعم ہے ، حقیقت میں یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی لعنت سہیڑ رہے ہو۔کلمہ گوؤں کو کافر کہنا، تکلیفیں پہنچانا ، توڑ پھوڑ کرنا تمہیں خود اللہ تعالیٰ کی سلامتی سے باہر کر رہا ہے۔ہم احمدی تو ہر اُس شخص کے لئے اسلام کے پھیلانے والے ہیں ، جو سلامتی کے حصول کی چاہت رکھتا ہے اور تمہارے جیسے قانون شکنوں اور بدی پھیلانے والوں سے بچنے والا ہے۔ہم اس کے ساتھ ہیں اور تم جیسے لوگوں سے ہم اعراض کرنے والے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اللہ تعالیٰ نے اُسے زمین میں رکھا ہے پس تم اسے اپنے درمیان پھیلاؤ۔اگر ایک مسلمان شخص ایک قوم کے پاس سے گزرے تو وہ ان پر سلام بھیجے۔اگر ان لوگوں نے جواب دیا تو اس شخص کو ایک درجہ زیادہ فضیلت ملے گی کیونکہ اس نے ان کو سلام کرنایا د دلایا۔اگر انہوں نے اس کا جواب نہ دیا تو اس کا جواب وہ وجود دے گا جوان سے بہتر ہے۔(الترغيب والترهيب جز 3۔الترغيب فى افشاء السلام وما جاء في فضله۔حديث نمبر 3988 صفحه (373-374) پس کسی بھی طبقے کا، کسی بھی شخص کا ہمارے سلام کا جواب نہ دینا اور آگے لغو اور فضولیات بکنا ہمیں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی طرف سے بھی ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلامتی پہنچانے والا ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ خود سلام پہنچوا رہا ہو تو قبول بھی فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کس طرح سلام بھیجواتا ہے۔قرآن کی سورۃ الرعد میں آتا ہے که جَنْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ۔سَلَمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ۔(الرعد: 24-25) یعنی دوام کی جنتیں ہیں ، ان میں وہ داخل ہوں گے۔ایسی ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو ان کے آباؤ اجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے اصلاح پذیر ہوئے اور فرشتے اُن پر ہر دروازے سے داخل ہورہے ہوں گے۔سلام ہو تم پر بسبب اس کے جو تم نے صبر کیا۔پس کیا ہی اچھا ہے گھر کا انجام۔پس فرشتوں کا ہر دروازے سے داخل ہو کر سلام بھیجنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مومنوں کا صبر اللہ تعالیٰ کی