خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 197

خطبات مسرور جلد پنجم 197 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء پس آپس کے تعلقات، ایک دوسرے سے محبت کے سلوک کے حقوق کا خیال رکھنا ، یہ کوئی معمولی چیزیں نہیں ہیں ، ان کی بڑی اہمیت ہے۔اگر اس سلام خدا کی طرف منسوب ہونا ہے تو پھر ہم میں سے ہر ایک کو سلامتی کا پیامبر بننا ہوگا ، سلامتی کو پھیلانے والا بننا ہو گا، اپنے معاشرے میں سلامتی بکھیر نے والا بننا ہوگا۔ورنہ جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے نام کا اسلام ہوگا اور یہ ایمان کی کمزور حالت ہے، یہ کمزور درجہ کا ایمان ہوگا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ یہی نہیں کہ صرف مسلمان تمہارے سے محفوظ رہیں بلکہ ایک بچے اور پکے مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام انسانیت کی سلامتی کی ضمانت ہو۔سہل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص سلامتی والا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔(مسند احمد بن حنبل، مسند معاذ بن انس، جلد 5 صفحه 377 حدیث 15729 مطبوعه بيروت 1998ء) جب ایمان میں ترقی ہوتی ہے تو صرف اپنے مسلمان بھائیوں سے نہیں، تمام بنی نوع انسان سے محبت اور پیار اور سلامتی کا تعلق ہو جاتا ہے اور یہی سلامتی کا تعلق ہے جو پھر یہ نیک پیغام دوسروں تک پہنچا تا ہے اور یہی سلامتی کا تعلق ہے جو پھر دوسروں کو آپ کے ارد گرد لے کر آتا ہے۔اور پھر یہی سلامتی کا پیغام ہے جس سے تبلیغ کے میدان کھلتے ہیں۔اور یہی سلامتی کا پیغام ہے جس سے پھر لوگوں کو آپ کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے اور صحیح دین کو پہچان کر اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔یہ سلامتی کا پیغام جب اختیار کریں گے اور پھیلائیں گے تو تبھی اللہ تعالیٰ کے صحیح پر تو بن سکیں گے۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ حقیقی سلام صرف جنت میں ہی ہے کیونکہ وہاں ایسی بقا ملے گی جو فنا سے پاک ہے اور ایسی تو نگری ملے گی جو ہر قسم کے فقر سے مبرا ہے اور ایسی عزت نصیب ہوگی جس کے ساتھ کوئی ذلت نہیں اور ایسی صحت عطا ہوگی جس کے بعد کوئی بیماری نہیں۔یہی مضمون اس آیت کریمہ میں ہے لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ۔اور یہ آیت اس طرح ہے کہ لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: 128) کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس امن کا گھر ہے اور وہ ان نیک کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے ان کا ولی ہو گیا ہے۔پس جیسا کہ سلام بھی خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے تو یہ جو لفظ دار السلام استعمال کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے قرب کی جگہ، یعنی جنت۔پس ہر تقویٰ پر قدم مارنے والے مومن کے لئے جو سلامتی بکھیر نے والا ہے اور معاشرے میں سلامتی اور امن کا علمبردار ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضمانت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ولی ہو گا۔اپنے قرب میں جگہ دے گا کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رضا کی راہوں پر چلنے والے کو اپنے وعدوں کے مطابق اپنے قرب میں جگہ نہ دے۔پھر فرمایا يَهْدِى بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَام وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ