خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد پنجم 196 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء پس اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بندہ خود ہے جو اپنی ذات پر اس قسم کی حرکتیں کر کے ظلم کر رہا ہوتا ہے۔پھر امام غزالی اللہ تعالیٰ کے اَلسَّلَام ہونے کی بابت فرماتے ہیں کہ وہ ہستی جس کی ذات ہر عیب سے اور جس کی صفات ہر نقص سے اور جس کے کام ہر قسم کے شر سے محفوظ اور پاک ہوں ، یعنی اس کے کام میں صرف شریعنی دیکھ اور تکلیف ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر اس تکلیف سے کہیں بڑھ کر خیر اور بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ تو یوں سلامتی بکھیر تا ہے کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔انسان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت السلام سے فیض پاسکیں سلامتی پھیلانے سے صرف شر اور دکھ سے ہی نہیں بچتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن رہا ہوتا ہے۔اس خیر اور بھلائی سے بھی حصہ لے رہا ہوتا ہے جو السلام خدا بندے کے نیک اعمال اور سلامتی پھیلانے کی وجہ سے اسے دے رہا ہوتا ہے۔امام راغب نے اس بارے میں مزید وضاحت فرمائی ہے، یہ لکھتے ہیں کہ السَّلام اور السَّلامة ان معنوں میں ہے کہ وہ ہر قسم کے ظاہری اور باطنی عیوب ونقائص سے خالی ہے اور جب اللہ کی نسبت السلام کہیں گے تو مراد یہ ہوگا کہ اس میں انسانوں والے عیوب ونقائص نہیں ہوتے۔پھر لکھتے ہیں کہ عبدالسلام یعنی خدائے سلام کا بندہ وہ ہے جو السلام کا مظہر ہو، خدائے السلام اس کو ہر نقص ، آفت اور عیب سے محفوظ رکھتا ہے۔جب بندہ اس السلام خدا کا مظہر بننے کی کوشش کرتا ہے ، سلامتی پھیلاتا ہے، معاشرے میں محبت امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرتا ہے تو پھر کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہر نقص آفت اور عیب سے محفوظ رکھتا ہے۔، پس ہر بندہ جس کا دل ملونی ، کینہ، حسد اور بد ارادے سے پاک ہو اور جس کے اعضاء گناہوں کے ارتکاب اور ان امور کے ارتکاب سے جن سے خدا نے روکا ہے، بچے ہوئے ہوں اور جس کے اخلاق ایسے ہوں کہ اس کی عقل ، خواہشات اور غضب کی اسیر نہ ہو۔عقل اپنی خواہشات کی غلام نہ بن جائے کہ غصے میں آ کر ہر چیز بھول نہ جائے۔ایسے لوگ نہ ہوں جیسا کہ شاعر نے کہا ہے۔جنہیں عیش میں یا دخدا نہ رہی جنہیں طیش میں خوف خدا نہ رہا اور کوئی شخص صفت سلام اور السّلام سے اس وقت تک متصف نہیں ہو سکتا جب تک دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ نہ ہوں۔اور السّلام صفت کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ تکالیف اور مصائب کو دور کرتی ہے۔جس طرح حدیث میں آیا ہے۔آنحضرت ﷺ ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھایا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ایک جگہ فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان سلامتی میں رے رہے۔(بخاری کتاب الايمان باب اى الاسلام افضل؟ حدیث نمبر 11)