خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 195
خطبات مسرور جلد پنجم 195 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء فرمایا کہ یہ بیماریاں تم میں آہستہ آہستہ داخل ہو رہی ہیں یعنی بغض اور حسد " بغض مونڈھ دینے والی ہے۔فرمایا: بالوں کو مونڈھنے والی نہیں بلکہ دین کو مونڈھنے والی بغض ایسی چیز ہے جو تمہارے دین کو ختم کر دے گی۔فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک کامل ایمان نہ لے آؤ اور اس وقت تک کامل ایمان نہیں لا سکتے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔اور کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس محبت کو تم میں مضبوط کر دے گی، وہ بات یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کو رواج دو 66 (الترغيب والترهيب جزء 3 الترغيب فى افشاء السلام و ما جاء في فضله۔۔۔۔۔۔حدیث نمبر 3978 صفحه 371-372 پس جیسا کہ میں نے کہا آج بھی اگر ہم جائزہ لیں تو کسی نہ کسی رنگ میں شیطان حسد اور بغض کے جذبات بہت سوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔پس کتنی بدنصیبی ہے کہ زمانے کے امام کو مان کر بھی ہم بعض حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے بن جائیں۔پس اللہ تعالیٰ کی سلامتی حاصل کرنے کے لئے اللہ اور رسول ﷺ نے یہی راستہ بتایا ہے کہ سلام کو رواج دو۔اس سے آپس میں دلوں کی کدورتیں بھی دور ہوں گی ، محبت بھی بڑھے گی ، عفوا ور درگز ر کی عادت بھی پیدا ہوگی اور پھر اس سے معاشرے میں ایک پیار اور محبت کی فضا پیدا ہو جائے گی جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک بڑا اہم حکم ہے جس سے حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ پیدا ہو جائے گی۔عام طور پر جماعت میں بھی بعض دفعہ آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں، جھگڑے ہوتے ہیں جو بعض دفعہ اتنا طول کھینچ لیتے ہیں کہ انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں بھی ایک جگہ اسی طرح آپس میں دو خاندانوں کی لڑائی ہوئی اور اس حد تک بڑھ گئی کہ جماعت کی بدنامی کا باعث بنی جس کی وجہ سے دونوں فریقوں کو جماعت سے اخراج کی سزا دینی پڑی۔خیر اس کے بعد معافی کے لئے لوگ لکھتے ہیں، لکھتے رہے، ایک نے لکھا کہ میں نے جب اس بات کو ختم کرنے کے لئے ، جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے جا کر مسجد میں ہی دوسرے فریق کو سلام کیا تو اس نے کہا بھول جاؤ اس بات کو ، ابھی چھ مہینے سال تک میں تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کر سکتا ، نہ سلام ہوسکتا ہے، نہ ہماری صلح ہو سکتی ہے۔تو ایسے موقعے جماعت میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ امام الزمان کو مان کر بھی ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعووں پر ایمان لانے کے بعد بھی، اُن شرائط بیعت کو ماننے کے بعد بھی کہ حقوق العباد کی ادائیگی کریں گے پھر ہم اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہوں۔تو جہاں یہ نفرتیں، کینے بڑائیاں بعض لوگوں کو جو اس قسم کے معاملات میں ملوث ہوتے ہیں جماعت سے علیحدہ کرتے ہیں، وہاں یہ سزا دینے کی وجہ سے خلیفہ وقت کے لئے بھی تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ سب سے بڑھ کر اپنے خدا کی ناراضگی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔تو خدا تو السلام ہے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن اپنی حرکتوں کی وجہ سے بندہ پھر اس کی ناراضگی کا مورد بن رہا ہوتا ہے۔