خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 189
خطبات مسرور جلد پنجم 189 خطبہ جمعہ 4 رمئی 2007ء لوگوں نے مجھے تعزیت کے خطوط میں لکھے ہیں۔میں ان کا ذکر کروں تو بہت لمبا قصہ ہو جائے گا۔پھر حضرت میاں صاحب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ بڑے نپے تلے انداز میں ، بڑے سوچ سمجھ کے بات کیا کرتے تھے، کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو جماعتی روایات سے ہٹ کر ہو۔کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آنحضرت ﷺ کے مقام کو نہ سمجھتے ہوئے ہو، کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جس سے بڑائی کی بُو آتی ہو، جس میں درویشانہ عاجزی کا فقدان ہو اور پھر اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو میری بات دور کر دے۔ایک دفعہ کینیڈا میں کسی نے آپ سے درویشوں کی قربانیوں اور حفاظت مرکز کے کام کو سراہتے ہوئے آپ کی بڑی تعریف کی۔تو آپ نے فرمایا کہ دیکھو امر واقعہ یہ ہے کہ ہم درویشوں نے قادیان کی حفاظت نہیں کی بلکہ قادیان کے مقامات مقدسہ اور وہاں کی جانے والی دعاؤں نے نہ صرف قادیان کی بلکہ اس کے رہنے والوں کی بھی حفاظت کی ہے۔تو یہ ہے ایک مومن کی سوچ اور ادراک کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہوتا ہے۔اس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے دعا کے مواقع مہیا فرمائے اور اپنے پیارے مسیح کی مقدس بستی کو ہر شر سے محض اپنے فضل سے بچایا۔ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے مقامات مقدسہ کے ساتھ ہماری بھی حفاظت فرمائی۔کسی نے ایک تعزیت کا خط لکھا اس میں یہ فقرہ مجھے بڑا اچھا لگا، آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ نے مجاہدانہ شان سے درویشانہ زندگی گزاری اور حقیقت یہی ہے۔پھر مالی تحریکات میں بھی حسب استطاعت خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ہر تحریک جو خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتی تھی پہلے خود حصہ لیتے ، پھر جماعت کو توجہ دلاتے تھے۔ابھی وفات سے چند دن پہلے مجھے لکھا کہ میں نے خلافت جو بلی کے لئے ایک لاکھ روپے کا وعدہ کیا تھا اور میرے ذہن سے اتر گیا کہ اس کی ادائیگی کرنی ہے۔بڑا معذرت خواہانہ خط تھا اور لکھا کہ احمد للہ مجھے وقت پر یاد آ گیا اور میں نے آج اس کی ادا ئیگی کر دی ہے اور یہ بھی حساب وفات سے چند دن پہلے صاف کر کے گئے۔وصیت کا حساب ساتھ ساتھ صاف ہوتا تھا۔زندگی میں جائیداد کا حساب بھی اپنی زندگی میں صاف کر دیا۔اور 1/9 کی وصیت تھی۔درویشوں کی خودداری کا واقعہ تو میں بیان کر چکا ہوں۔خلافت سے تعلق کے بارہ میں دوبارہ بتا تا ہوں۔کوئی حکم جاتا تھا، کوئی ہدایت جاتی تھی تو من وعن انہی الفاظ میں اس کی فوری تعمیل ہوتی تھی۔یہ نہیں ہوتا تھا، جس طرح بعضوں کو عادت ہوتی ہے کہ اگر کوئی فقرہ زیادہ واضح نہیں ہے تو اس کی تو جیہات نکالنا شروع کر دیں گے۔جس کے دو مطلب نکلتے ہوں تو اپنی مرضی کا مطلب نکال لیں۔بلکہ فوری سمجھتے تھے کہ خلیفہ وقت کا منشاء کیا ہے۔