خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 184
خطبات مسرور جلد پنجم 184 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء پاکستان میں رہیں گے، جو قادیان میں رہ گئے وہ بس وہیں رہ سکتے ہیں اور مزید کوئی نہیں آئے گا۔تو اپنی اس خواہش کا ذکر کرتے ہوئے میاں وسیم احمد صاحب نے ایک دفعہ بتایا کہ میری یہ دلی خواہش اور دعا تھی کہ میں قادیان میں ہی رہ کر خدمت بجالاؤں۔چنانچہ اس کے لئے ایک دن میں نے اپنا جائے نماز لیا اور قصر خلافت قادیان کے بڑے کمرے میں چلا گیا اور وہاں جا کر میں نے نفل شروع کر دیئے اور جیسا کہ بتایا جاتا ہے کہ دعا قبول ہونی ہو تو اللہ تعالی اس کے سامان پیدا کرتا ہے، مجھے اتنی الحاج کے ساتھ دعا کا موقع ملا کہ لگتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس کو قبول فرمالے گا اور میں نے دعا کی اور خدا تعالیٰ سے کہا کہ میں نے قادیان سے نہیں جانا تو کوئی ایسے سامان کر دے اور پھر کہتے ہیں کہ قادیان کے غیر مسلموں نے حکومت کو شکایت کی کہ یہ قافلے یہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔یہاں آتے ہیں تو یہاں کے وفا دار بن جاتے ہیں، اور پاکستان جاتے ہیں تو پاکستان کے یہ لوگ وفادار بن جاتے ہیں۔یہ لوگ یہی کہتے ہیں اس لئے اس سلسلے کو بند کیا جانا چاہئے۔چنانچہ ان کی شکایت پر حکومت نے یہ پابندی لگادی کہ کوئی آجا نہیں سکتا اور اس طرح میاں صاحب پھر مستقل قادیان کے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے وہاں رہنے کا انتظام کر دیا۔اب کچھ اور قربانیوں کا ذکر ہے۔وہاں کے حالات میں کس طرح رہے اور جب بھی موقعے آئے اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو صبر اور حوصلے سے تکلیفیں برداشت کرنے کی توفیق دی۔مثلاً 1952ء میں جب حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہوئی تو حالات کی مجبوری کی وجہ سے آپ پاکستان نہیں جا سکتے تھے اور یہ صدمہ آپ نے ہندوستان میں تنہائی میں ہی برداشت کیا۔میرا خیال ہے ان دنوں آپ تعلیم کے سلسلے میں لکھنو میں تھے۔کچھ عرصہ کے لئے تفسیر کا علم حاصل کرنے کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو لکھنو بھجوایا تھا اور و ہیں آپ نے حکمت بھی پڑھی تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے اس مجاہد درویش بیٹے سے ان کی قربانی کی وجہ سے بہت تعلق تھا اور یہ جو میں نے واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو ، جب آپ شادی کی غرض سے پاکستان آئے ہوئے تھے، بعض وجوہات کی وجہ سے یہ کہا کہ فوری واپس چلے جاؤ، تو اُس وقت جب ان کو جہاز کی سیٹ مل گئی لیکن جہاز نے دو دن بعد روانہ ہونا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو جب پتہ لگا تو آپ خود بھی لاہور تشریف لے آئے۔یہ نہیں کہا کہ دو دن رہتے ہیں تو ربوہ آ جاؤ بلکہ میاں صاحب کو کہا وہیں ٹھہر وہ ہمیں آ رہا ہوں اور خو د لا ہور تشریف لائے ، مختلف ہدایات اور نصائح فرمائیں، دعائیں دیں اور اپنے سامنے ان کو رخصت کیا۔آپ یہ دعائیں کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خیریت سے قادیان پہنچائے اور ان کو موقع ملے کہ دیار مسیح کی حفاظت کی ذمہ داری کو نبھا سکیں۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے بعد میں میاں صاحب کو بتایا، میاں صاحب نے اس کا خود ہی ذکر کیا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب والٹن ائر پورٹ ( اس زمانے میں لاہور میں والٹن ائر پورٹ ہوتا تھا ))