خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 177

خطبات مسرور جلد پنجم 177 خطبہ جمعہ 27 را پریل 2007 ء پس آنحضرت ﷺکی قوت قدسی کا فیض آج بھی جاری ہے اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ روح القدس کی تائیدات کے نظارے ہم دیکھتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی اور زندہ اور قدوس خدا کے جلوے ہیں جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ اَنَا اللهُ ذُو الْمِنَنُ إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ اَقُومُ یعنی میں اللہ بہت احسان کرنے والا ہوں میں یقیناً اپنے رسول کی مدد کے لئے کھڑا ہوں گا۔پس یہ سلوک اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے ساتھ آج بھی چل رہا ہے۔روح القدس کے ساتھ تائیدات کا فیض آج بھی جاری ہے۔اللہ تعالیٰ کے یہی سلوک ہیں جس نے آخرین کو اولین کے ساتھ ملایا ہوا ہے جو روح القدس کے اس جاری چشمے سے اس زمانے میں بھی اعمال صالحہ بجالانے والے مومنین کو سیراب کرتا ہے، جو اپنی قدوسیت کے جلووں سے اس زمانے کے لوگوں کو بھی فیض پہنچاتا ہے۔اس زمانے میں بھی آنحضرت ﷺ کے جاری فیض سے خدا تعالیٰ آپ کے عاشق صادق کی جماعت کو فیضیاب کر رہا ہے جس کے نظارے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی ہم دیکھتے ہیں۔ہر احمدی بلکہ میں کہوں گا کہ بعض غیروں نے بھی ایک بار پھر، چند سال پہلے دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں کو پاک کرتے ہوئے اپنے پاک نبی ﷺ جو سب سے زیادہ روح القدس سے فیض یافتہ ہیں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے آپ کے ایک ایک لفظ کو پورا کرتے ہوئے ، آپ کے غلام صادق کے الفاظ کو سچ کر دکھاتے ہوئے ، قدرت ثانیہ کی برکت سے حصہ دینے کے لئے مومنین کے دلوں کو صرف اور صرف ایک دعا اور پاک خواہش سے بھر دیا کہ اے خدا ہمیں اکیلا نہ چھوڑ نا اور خلافت کے نظام کو ہم میں ہمیشہ جاری رکھنا۔ہر مومن نے اپنے دل کی عجیب کیفیت دیکھی۔وہ کیا تھی ، وہ کیفیت یقیناً خدائے قدوس اور اس کے رسول ﷺ کی قوت قدسی کا اس زمانے میں اظہار تھا جس نے ان دنوں میں ہر دل کو پاک صاف کیا ہوا تھا۔بعض کو اس قدوس خدا نے رویا سے نواز کر دلوں کو تسلی اور دلوں کو پاک کرنے کے سامان بھی کئے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ خلیفہ وقت کے لئے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے محبت بھر دی اور خلیفہ وقت کے دل میں بھی ہمیشہ کی طرح لوگوں کے لئے محبت بھر دی۔ایک شخص جو جماعت کی اکثریت کیا بلکہ بہت تھوڑی تعداد کو جاننے والا تھا اس کے لئے جماعت کے ہر فرد کو عزیز ترین بنا دیا۔وہ محبت کے جذبات ابھرے جو سوچے بھی نہیں جاسکتے تھے۔جماعت اور خلافت ایک وجود کی طرح ہمیشہ رہے ہیں اور رہیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔پس اس زندہ نبی آنحضرت ﷺ کے فیض ہی ہیں جو ہر آن ، ہرلمحہ ہمارے ایمانوں کو بڑھاتے ہیں۔یہ نظارے جماعت انشاءاللہ تعالیٰ ہمیشہ دیکھتی رہے گی۔لیکن اس سے فیض پانے کے لئے ہمیں ہمیشہ اپنے دلوں کو اس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق پاک صاف رکھنا ہو گا تا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت قدوسیت سے فیض پاتے رہیں۔اللہ تعالیٰ