خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 174
خطبات مسرور جلد پنجم 174 خطبہ جمعہ 27 را پریل 2007 ء آفتاب ہے جیسے اجسام کے لئے سورج“۔روح کے لئے اس کی اسی طرح اہمیت ہے، وہ سورج کی روشنی دیتا ہے جس طرح جسم کی پرورش کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورج کو بنایا ہوا ہے۔وہ اندھیرے کے وقت میں ظاہر ہوا اور دنیا کو اپنی روشنی سے روشن کر دیا۔وہ نہ تھا، نہ ماندہ ہوا جب تک کہ عرب کے تمام حصے کو شرک سے پاک نہ کر دیا۔وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے، کیونکہ اس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے اور اس کی کچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو۔کون صدق دل سے ہمارے پاس آیا جس نے اس نور کا مشاہدہ نہ کیا اور کس نے صحت نیت سے اس دروازہ کو کھٹکھٹایا جو اس کے لئے کھولا نہ گیا۔لیکن افسوس کہ اکثر انسانوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ نوران کے اندر داخل ہو“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 301-303) | پس آج ہمیں آنحضرت ﷺ نے جہاں پرانے انبیاء کے مقام سے بھی روشن کروایا ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہ کی زندگی پانے والے اور ہمیشہ زندہ رہنے والی تعلیم اور شریعت آپ ﷺ کی ہی ہے جن کی قوت قدسی کا فیضان آج بھی جاری ہے اور آپ کے عاشق صادق نے آج اسی قوت قدسی سے حصہ پا کر ہمیں وہ راستے دکھائے ہیں جن پر چل کر ہمیں خدائے واحد ویگانہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے مقام اور قرآن کریم کے مقام کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خاتم النبیین کا لفظ جو آ نحضرت ﷺ پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہوا اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں۔وہ ایسی کتاب ہے جس کے اندر ساری دنیا کے کمالات موجود ہیں، تمام دنیا کا علم اس میں موجود ہے اور یہی اس کی خاتم ہونے کی نشانی ہے اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے، اسی قدر قوت اور شوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا، اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبے پر واقع ہوا ہے، جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے۔اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کے جو منجزات ہیں وہ قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔اس کے بعد اب اس