خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 169

خطبات مسرور جلد پنجم 169 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء تو یہ تھا آپ کی قوت قدسی کا اثر کہ خوف یہ تھا کہ باپ کے خونی رشتہ کی وجہ سے میں دوبارہ ان ناپاکوں میں شامل نہ ہو جاؤں اس لئے ہر اس امکان کو ختم کرنے کے لئے جو مجھے جہنم کی طرف لے جاسکتا ہے ، جو مجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور لے جاسکتا ہے، میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ اللہ اور رسول ﷺ کی خاطر اپنے باپ کو قتل کر دوں۔لیکن آنحضرت ﷺ جو حسن و احسان کے پیکر تھے انہوں نے فرمایا کہ نہیں میں تو معاف کر چکا ہوں اور معاف کرتا رہوں گا۔ان گندے کیڑوں کے ساتھ میرا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔آپ کی قوت قدسی نے تو آپ کے ماننے والوں کی بھی سوچوں کو تبدیل کر دیا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ آتا ہے جب انہوں نے ایک لڑائی میں اپنے مخالف کو گرا لیا اور اس نے منہ پہ تھوکا تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور اس کے پوچھنے پر فرمایا کہ میں تو تمہارے ساتھ خدا کے لئے لڑ رہا تھا لیکن کیونکہ اب میری ذات Involve ہوگئی ہے، میرانفس Involve ہو گیا ہے، یہ ذاتیات بیچ میں آگئی ہے اس لئے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔تو سیتھی پاک تبدیلیاں جو آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ میں پیدا کیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحه 337) آنحضرت ﷺ کے وقت میں عرب کی جو حالت تھی اور جس قسم کے گند میں وہ مبتلا تھے اور جس طرح آنحضور ﷺ نے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا کی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” اسلام وہ دین بزرگ اور سیدھا ہے جو عجائب نشانوں سے بھرا ہوا ہے اور ہمارا نبی وہ نبی کریم ہے جو ایسی خوشبو سے معطر کیا گیا ہے جو تمام مستعد طبیعتوں تک پہنچنے والی اور اپنی برکات کے ساتھ ان پر احاطہ کرنے والی ہے۔اور وہ نبی خدا کے نور سے بنایا گیا اور ہمارے پاس گمراہیوں کے پھیلنے کے وقت آیا اور اپنا خوبصورت چہرہ ہم پر ظاہر کیا۔اور ہمیں فیض پہنچانے کے لئے اپنی خوشبو کو پھیلایا اور اس نے باطل پر دھاوا کیا اور اپنے تاراج سے اس کو غارت کر دیا۔یعنی جھوٹ پر حملہ کر کے اس کو ختم کر دیا اور اپنی سچائی میں اجلی بدیهیات کی طرح نمودار ہوا۔اس نے اس قوم کو ہدایت فرمائی جو خدا کے وصال کی امید نہیں رکھتے تھے۔اُن لوگوں کے لئے ہدایت کے سامان پیدا فرمائے جن کو کبھی خیال بھی نہیں آ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے ملیں گے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے بنیں گے۔اور مُردوں کی طرح تھے جن میں ایمان اور نیک عملی اور معرفت کی روح نہ تھی اور نومیدی کی حالت میں زندگی بسر کرتے تھے۔اور ان کو ہدایت کی اور مہذب بنایا اور معرفت کے اعلیٰ درجوں تک پہنچایا۔اور اس سے پہلے وہ شرک کرتے تھے اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے۔اور خدائے واحد اور قیامت پر ان کو ایمان نہ تھا۔اور وہ بتوں پر گرے ہوئے تھے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو بتوں کی طرف منسوب کرتے تھے، یعنی جو کام بھی تھا بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں، ہر کام کے لئے بُت بنائے ہوئے تھے۔”یہاں تک کہ مینہ کا برسانا اور پھلوں کا نکالنا اور بچوں کو رحموں