خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 168
خطبات مسرور جلد پنجم 168 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء میں فصیح نامی شراب استعمال ہوتی تھی۔یہ ایک خاص شراب تھی جو کچی اور خشک ( دونوں قسم کی ) کھجور سے تیار ہوتی تھی۔ایک منادی کی آواز سنائی دی۔ابوطلحہ نے کہا گھر سے باہر نکل کے دیکھو، میں گھر سے نکلا تو ایک اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرتے ہوئے پایا سنو شراب حرام قرار دے دی گئی ہے۔راوی کہتے ہیں چنانچہ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔اس وقت ابوطلحہ نے مجھے کہا کہ تم نکلو اور شراب کو بہا دو۔چنانچہ میں نے شراب بہادی۔اسی طرح ایک دوسری روایت میں آتا ہے۔حضرت ابوطلحہ نے کہا اے انس! ان مٹکوں کو انڈیل دو یا توڑ دو۔راوی کہتے ہیں اس آدمی کے اعلان کے بعد صحابہ نے دوبارہ شراب نہ پی اور نہ اس کے بارے میں کسی نے کسی سے پوچھا۔(مسلم کتاب الاشربه باب تحريم الخمر حدیث نمبر (5024 یہ تھا آنحضرت ﷺ کے صحابہ پر آپ کی قوت قدسی کا اثر کسی نے یہ نہیں کہا کہ تحقیق کرو کہ ایک دم یہ حکم کس طرح آ گیا ، ابھی تک تو ہم شراب پی رہے تھے۔پاک دلوں اور اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والوں کا فوری رد عمل تھا کہ پہلے تعمیل کرو۔صحابہ ماشاء اللہ فراست رکھتے تھے ، جانتے تھے کہ ہمارے دل و دماغ کو پاک کرنے والا حکم یقینا اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی طرف سے ہی ہوگا۔باوجودیکہ استعمال کیا کرتے تھے لیکن شراب کے نقصانات سے بھی واقف تھے۔اپنے کئی ساتھیوں کو نشے کی حالت میں بعض معیار سے گری ہوئی حرکتیں کرتے دیکھتے تھے۔پھر بعض لڑائی میں ملوث ہو جاتے تھے۔آنحضرت ﷺ کے دلوں کو پاک کرنے اور صحابہ کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا مندی حاصل کرنے کی ایک اور اعلیٰ مثال - عبد اللہ بن اُبی بن سلول نے جب آنحضور ﷺ کے خلاف زبان درازی کی تو آنحضور ﷺ خاموش رہے، مگرلوگوں کی باتوں کے باعث عبد اللہ رضی اللہ عنہ، جو عبد اللہ بن اُبی بن سلول جو مدینہ میں رئیس المنافقین تھا کے بیٹے تھے ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ عبد اللہ بن ابی کی باتوں کے باعث اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں ، یا رسول اللہ ! اگر حضور نے لازماً ایسا کرنا ہی ہے تو حضور مجھے اس کے قتل کا حکم دیں، ہمیں خود اس کا سر حضور کی خدمت میں لے آؤں گا۔اللہ کی قسم ! میں خزرج کو جانتا ہوں ان میں سے کوئی بھی میرے جتنا اپنے والد کا فرما نبردار نہیں ہے۔اور مجھے ڈر ہے کہ آپ میرے علاوہ کسی اور کو میرے والد کو قتل کرنے کا حکم نہ دے دیں اور آپ مجھے عبد اللہ بن ابی کے قاتل کولوگوں میں پھرتے ہوئے دیکھنے والا نہ چھوڑ دیں کہ پھر میں انتقام کے جذبے کے تحت ایک کافر کے بدلے میں ایک مومن کو قتل کر دوں اور دوزخ میں جاگروں۔عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر رسول ﷺ نے فرمایا کہ معاملہ یوں نہیں ہے بلکہ ہم اس سے رفق کا معاملہ کریں گے اور جب تک وہ ہمارے ساتھ رہے گا ، ہم اس سے حسن صحبت کا معاملہ کریں گے۔(السيرة النبوية لابن هشام طلب بن عبدالله بن ابى ان يتولى قتل ابيه صفحه 672 مطبوعه بيروت (2001ء