خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 167

167 خطبہ جمعہ 27 را پریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم مدینہ میں انصار کی آبادی اور کھجوروں کے باغات کے درمیان ایک جاگیر عطا فرمائی۔اس پر بنو عبد بن زھرہ نے کہا (یا رسول اللہ!) ہم سے ابن ام عبد (اُمّم عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعودؓ ) کو دُور کیجئے۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا تو پھر مجھے اللہ نے مبعوث ہی کیوں فرمایا ہے؟ یقینا اللہ تعالیٰ کسی امت کو درجہ تقدیس عطا نہیں فرماتا جس میں اس کے ضعفاء کے لئے ان کے حق کو نہیں لیا جاتا۔(مشكوة كتاب البيوع باب احياء الموات الشرب الفصل الثاني حدیث نمبر 3004) | پس قدوسیت کا فیض اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس کرنا ، اُسی وقت فائدہ مند ہے جب ہر بڑا، ہر صاحب حیثیت، ہر مالک، ہر با اختیار، ہر عہدیدار، ہر نگر ان اپنے سے کم درجہ کے لوگوں اور اپنے سے کمزوروں اور ضرورت مندوں کے حقوق کو حق کے ساتھ اور انصاف کے تقاضوں کے ساتھ ادا کرتا رہے۔حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ میں زاد راہ اور راشن کی بہت قلت ہوگئی۔صحابہ کرام پریشان ہو کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کے لئے اپنی سواری کے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت چاہی۔آپ نے اجازت دے دی۔ان صحابہ کو حضرت عمر ملے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی ، حضرت عمرؓ نے پوچھا تمہارے پاس اونٹوں کے بعد سواری کے لئے کیا رہے گا۔حضرت عمر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے ، عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! ان کے پاس اونٹوں کے بعد سواری کے لئے کیا رہے گا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ وہ اپنی بچی کچھی اشیاء لے کر آئیں، جو کھانے پینے کی چیزیں تھیں وہ لے کر آجائیں۔پھر آپ نے دعا کی اور اس میں برکت ڈالی۔پھر آپ نے صحابہ کو اپنے برتن وغیرہ لانے کا ارشاد فرمایا۔تمام صحابہ نے اپنے برتن بھر لئے۔پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔(بخاری كتاب الجهاد والسير باب حمل الزاد فى الغزو حدیث نمبر (2982 پس یہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی اور قبولیت دعا تھی جس نے فاقے کی فکر انگیز صورتحال کو کشائش میں بدل دیا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو قوت قدسیہ عطا فرمائی تھی اس سے آپ نے صحابہ کی سوچوں کو ، ان کی حالتوں کو اس قدر پاک کر دیا تھا کہ کوئی بھی حکم جو اترتا تھا اور جس کا آپ اعلان فرماتے تھے، صحابہ بغیر کسی چون و چرا کے اس کی تعمیل کیا کرتے تھے۔کان میں آواز پڑتے ہی اس پر عملدرآمد شروع ہو جاتا تھا۔یہ تحقیق بعد میں ہوتی تھی کہ حکم کس کے لئے ہے اور کیوں ہے۔صحابہ کی پاکیزگی کے معیار اس قدر بڑھ گئے تھے کہ جس کوئی مثال نہیں ہے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جس دن حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو میں اس دن ابوطلحہ کے گھر ایک گروہ کو شراب پلانے میں مصروف تھا۔اُن دنوں عربوں