خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد پنجم 163 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف آنے والے نہیں کہلا سکیں گے، محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف آنے والے نہیں کہلا سکیں گے اور نتیجہ صفت قدوسیت سے فیض پانے والے نہیں بن سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ جو آپ کو قدوس خدا نے عطا فرمائی کے بارے میں عرب کا نقشہ کھینچ کر تحریر فرماتے ہیں کہ اس وقت کی عرب کی حالت کو دیکھو جو برائیوں میں گھرے ہوئے تھے، ہر قسم کی ضلالت و گمراہی ان کی پہچان تھی، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ قوم کبھی پاک ہوسکتی ہے یا ان کو کبھی عقل آ سکتی ہے۔یا یہ لوگ عام اخلاق کے اختیار کرنے والے بھی بن سکتے ہیں کجا یہ کہ باخدا بن جائیں۔لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ جو میرے اس پیارے کے ساتھ تعلق جوڑے گا وہ پاک ہوگا بلکہ روح القدس سے حصہ پائے گا اور دنیا نے پھر دیکھا کہ قوم میں انقلاب آیا۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” جو شخص اس بات کو غور کی نظر سے دیکھے کہ انہوں نے اپنی پہلی چرا گا ہوں کو کیونکر چھوڑ دیا یعنی جو ان کے شوق تھے ، جو ان کی حرکتیں تھیں، جو باتیں تھیں، جو عمل تھے، جس میں وہ پھرا کرتے تھے، جس کو بہت اچھا سمجھتے تھے اس کو کیونکر چھوڑ دیا۔” اور کیونکر وہ ہوا و ہوس کے جنگل کو کاٹ کر اپنے مولا کو جاملے۔تو ایسا شخص یقین سے جان لے گا کہ وہ تمام قوت قدسیہ محمدیہ کا اثر تھا“۔یہ سب تبدیلی جو آئی وہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ کے اثر کے تحت تھی وہ رسول جس کو خدا نے برگزیدہ کیا اور عنایات از لیہ کے ساتھ اس کی طرف توجہ کی اور آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ کو سوچ کہ صحابہ زمین کے نیچے سے لئے گئے اور آسمان کی بلندی تک پہنچائے گئے اور درجہ بدرجہ برگزیدگی کے مقام تک منتقل کئے گئے، یعنی بزرگی کا اور پاکی کا مقام ہر لمحہ ہر درجہ بڑھتا ہی گیا۔اور آنحضرت ﷺ نے ان کو چار پایوں کی مانند پایا کہ وہ تو حید اور پر ہیز گاری میں سے کچھ بھی نہیں جانتے تھے یعنی جانوروں کی طرح تھے نہ ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید کا پتہ تھا، نہ پر ہیز گاری کا پتہ تھا۔برائیوں میں مبتلا تھے اور نیکی بدی میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔پس رسول اللہ ﷺ نے ان کو انسانیت کے آداب سکھلائے اور تمدن اور بود و باش کی راہوں پر مفصل مطلع کیا“۔(نجم الهدى۔روحانی خزائن جلد 14 صفحه 31-32۔مطبوعه لندن پھر آپ فرماتے ہیں ” تیسرا دروازہ معرفت الہی کا جو قرآن شریف میں اللہ جل شانہ نے اپنی عنایت خاص سے کھول رکھا ہے برکات روحانیہ ہیں جس کو اعجاز تاثیری کہنا چاہئے۔یہ بات کسی سمجھدار پر مخفی نہیں ہوگی کہ آنحضرت کا زاد بوم ایک محدود جزیرہ نما ملک ہے جس کو عرب کہتے ہیں جو دوسرے ملکوں سے ہمیشہ بے تعلق رہ کر گویا ایک گوشتہ تنہائی میں پڑا رہا ہے۔اس ملک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بے خبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بت پرستی و دیگر ناپاک خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیاشی اور بدمستی اور شراب خواری اور قمار بازی و غیر فسق کے طریقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا یہ سب برائیاں ان میں تھیں اور چوری اور قزاقی اور خونریزی اور دختر کشی اور یتیموں کا مال کھا جانے یعنی ڈاکے ڈالنا، قتل کرنا، بیٹیوں کو مارنا، یتیموں کا مال کھا جانا اور بیگا نہ حقوق دبا لینے کو کچھ گناہ نہ