خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 157

خطبات مسرور جلد پنجم 157 (16 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2007 ء (20 رشہادت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدوس ہے۔مختلف لغات میں اس لفظ کے جو معنی لکھے ہیں اور پرانے مفسرین نے جو تفسیریں کی ہیں ان میں سے چند مشہور مفسرین کی مختصر تفسیر اور معانی میں پیش کرتا ہوں۔تاج العروس میں لکھا ہے کہ القدوس اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنہ میں سے ایک اسم ہے اور الْقُدُّوس کے معنی ہیں الطاھر تمام عیوب ونقائص سے منزہ ہستی۔اور المُبارك، با برکت جس میں تمام قسم کی برکات جمع ہیں۔اور اَلتَّقْدِیس کا مطلب ہے اَلتَّطْهِير، اللہ عز وجل کو پاک اور بے عیب قرار دینا۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ التَّقْدِيس اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی وہ طہارت ہے ، وہ پاکیزگی ہے جس کا ذکر ار شا در بانی وَيُطَهِّرُ كُمُ تَطْهِيرًا میں ہوا ہے اور اس سے مراد ظاہری نجاست کا دُور کرنا نہیں ہے بلکہ جیسا کہ دوسری آیات سے ثابت ہے نفس انسانی کی تطہیر کرنا ہے۔پھر اقرب الموارد میں لکھا ہے کہ قدوس ایسی ہستی ہے جو پاک اور تمام عیوب ونقائص سے منز ہ ومبرا ہے۔بالکل پاک صاف ہے۔ہر لحاظ سے پاک کی ہوئی ہے۔پھر القدس کے معنی لکھتے ہیں پاکیزگی اور برکت۔تقریباً یہی ملتے جلتے معنی لسان العرب میں لکھے ہیں ، یہ چند مشہور لغات ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تمام لغات سے جو معنی اخذ کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ القدوس تمام پاکیزگیوں کا جامع ہے یعنی صرف عیوب سے ہی مبر انہیں ہے، صرف عیوب سے ہی پاک نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی خوبیاں بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ وہ پاک ذات ہے جس میں ہر قسم کی پاکیزگی جمع ہے، ہر قسم کے عیب سے وہ پاک ہے، اللہ تعالیٰ کی ہستی میں کسی بھی قسم کے عیب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کوئی ایسی خوبی نہیں جس کا انسانی عقل احاطہ کر سکے اور اس میں موجود نہ ہو بلکہ وہ تو ان خوبیوں کا بھی جامع ہے جو اس میں جمع ہیں، جو موجود ہیں اور وہ تمام خوبیاں بھی جن کا انسانی عقل احاطہ نہیں کر سکتی اور یہی اس قدوس ذات کی عظمت ہے۔اب بعض مفسرین کی تفسیر پیش کرتا ہوں جو انہوں نے اس صفت کے تحت کی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو کہا نُقَدِّسُ لَكَ (البقرۃ: 31) اس کی وضاحت کرتے ہوئے تفسیر مجمع البیان میں لکھا ہے کہ نُقَدِّسُ لَكَ کا معنی ہے اے اللہ ! تمام وہ صفات نقص جو تیرے شایان شان نہیں ہم تجھے