خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 153

153 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم کی اپنی ایک اہمیت ہے۔قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے۔لیکن ساتھ ہی بہت سی ضروریات کے لئے مالی قربانی کا بھی ذکر آتا ہے۔اس لئے ایک تو میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ جماعت میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زکوۃ کا نظام رائج نہیں اور ہم اس طرف توجہ نہیں دیتے۔جماعت میں زکوۃ کا نظام رائج ہے اور جن پر زکوۃ فرض ہے ان کو ادا کرنی چاہئے۔بعض منافق طبع یا کمزور لوگ یا لاعلم کہنا چاہئے ، بعض دفعہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بعض ذہنوں میں یہ سوال ڈالتے ہیں اور نئے شامل ہونے والے احمدی اس سے بعض دفعہ ٹھو کر بھی کھاتے ہیں کہ جماعت چندے کے اسلامی طریق کو رائج کرنے کی بجائے اپنا نظام چلاتی ہے۔ایک تو زکوۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے ، اس کی کچھ شرائط ہیں جن کے ساتھ یہ فرض ہے اور دوسرے اس کی شرح اتنی کم ہے کہ آجکل کی ضروریات یہ پوری نہیں کر سکتی۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی زائد ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ، زکوۃ کے علاوہ زائد چندے لئے جاتے تھے۔زکوۃ کی اہمیت اور فرضیت سے کسی کو انکار نہیں۔اس لئے جن پر زکوۃ فرض ہے ، ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ زکوۃ دینی لازمی ہے وہ ضرور دیا کریں اور خاص طور پر عورتوں پر تو یہ فرض ہے جو زیور بنا کر رکھتی ہیں۔سونے پر زکوۃ فرض ہے۔دوسرے جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت نبوت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس زمانے میں خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی ہے۔اس لئے خلفاء کے مقرر کردہ چندے اور تحریکات اللہ تعالیٰ اور رسول کے حکم کے مطابق ہیں اس لئے ان کی ادائیگی کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔بعض لوگوں کو شرح پر اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں شرح نہیں تھی ، بعد میں مقرر کی گئی تو ضرورت کے مطابق مقرر کی گئی۔پس خلافت کے ساتھ وابستہ ہو کر جہاں قیام نماز ہوگا، زکوۃ کی ادائیگی ہوگی نمونے ہوں گے جس سے دین کی تمکنت قائم ہو، وہاں اللہ اور رسول کے حکموں پر عمل کر کے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے رحم کا وارث بھی بن رہا ہو گا۔ان دنوں میں بعض جماعتوں کو اپنے چندہ عام کے بجٹ پورے کرنے کی فکر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ پریشانی کا اظہار کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر ہمیشہ فضل رہا ہے اور افراد جماعت کو قربانی کے جذبے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق ملتی رہی ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کرنے والے بنے رہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب جماعت نے اپنی ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کرتے ہوئے عہد یداران کی پریشانیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔اس سال بھی انشاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی ہو گا۔اس کی تو مجھے فکر نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے اس فرض کی طرف صحیح طور پر توجہ نہیں دیتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ پوری شرح سے چندہ دینے سے ان کی آمد میں کمی آجائے گی۔یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے والے ہو اور عبادت کی طرف توجہ دینے والے ہوتو اللہ تعالیٰ پر یہ باطنی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے لئے رزق کی راہیں کھولنے والا ہے۔